یورپ میں سات پروازوں کو بم کی جھوٹی دھمکیاں، تلاشی اور راستے کی تبدیلی، کوئی دھماکا خیز مواد نہ ملا

لندن: یورپ بھر میں منگل کو سات مسافر پروازوں کو بم کی دھمکیاں ملنے کے بعد ان کی تلاشی لی گئی یا انہیں دوسرے ہوائی اڈوں پر اتارا گیا۔ تمام طیارے بحفاظت اترے اور کہیں سے کوئی دھماکا خیز مواد نہیں ملا۔
برطانوی حکومت نے ان دھمکیوں کو «بدنیتی پر مبنی جھوٹ» قرار دیا۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک ذریعے کے مطابق یہ کم درجے کی دھمکیاں قابلِ اعتبار نہیں تھیں اور مسافروں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ متاثرہ پروازوں میں ہیتھرو اور مانچسٹر سے روانہ ہونے والی دو پروازیں بھی شامل تھیں۔
پولینڈ کے حکام نے تصدیق کی کہ دارالحکومت وارسا آنے والی دو پروازوں کے بارے میں دھمکیاں ملیں۔ شہر کے دو بڑے ہوائی اڈوں میں سے ایک مودلن ایک رخ موڑے گئے طیارے کو اتارنے کے بعد کچھ دیر بند رہا۔ اٹلی میں ڈبلن سے آنے والے رائن ایئر کے طیارے کو لڑاکا طیاروں نے روم تک پہنچایا، وہ بخیریت اترا اور کوئی مشکوک چیز نہیں ملی۔
دھمکیاں برطانیہ، آئرلینڈ، ڈنمارک، پرتگال اور اٹلی سے اڑنے والی اور پولینڈ، اسپین، اٹلی اور بلغاریہ میں اترنے والی پروازوں سے متعلق تھیں۔ ان میں سے چار پروازیں رائن ایئر کی تھیں جبکہ باقی ویز ایئر، لاٹ اور ایس اے ایس کی تھیں۔ ان واقعات میں کوئی واضح ربط سامنے نہیں آیا۔
تحقیق کاروں کے مطابق دہشت گردی کی سرگرمی یا کسی دشمن ریاست کے ملوث ہونے کا فوری ثبوت نہیں ملا، تاہم صورتحال کی نگرانی جاری ہے اور یورپ بھر میں معلومات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے پیر کو برطانیہ سے بلغاریہ جانے والی ایک پرواز کا رخ بھی بظاہر بے بنیاد دھمکی پر موڑا گیا تھا۔
کوونٹری یونیورسٹی میں ایوی ایشن سکیورٹی کے وزیٹنگ پروفیسر فلپ بوم کے مطابق جعلی دھمکیاں روزانہ ملتی ہیں اور اکثر مذاق یا پرواز میں تاخیر کے لیے دی جاتی ہیں۔ ان کے بقول دہشت گرد تنظیمیں پہلے اطلاع نہیں دیتیں بلکہ حملے کے بعد ذمہ داری قبول کرتی ہیں۔ تاہم کچھ طیاروں کا رخ موڑا جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ دھمکیوں کو مخصوص اور قابلِ اعتبار سمجھا گیا۔











