امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری، ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر مقابلہ

واشنگٹن: امریکا میں منگل کو وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ تمام 50 ریاستوں میں پولنگ اسٹیشن کھلے ہیں، جہاں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے۔
اس سے قبل 5 کروڑ 70 لاکھ سے زائد امریکی قبل از وقت ووٹ ڈال چکے ہیں۔ سب سے زیادہ ووٹنگ جارجیا، مشی گن، نارتھ کیرولائنا، اوہائیو اور ٹیکساس جیسی کانٹے کے مقابلے والی ریاستوں میں ہوئی۔
اس وقت سینیٹ میں ریپبلکنز کے 53 ارکان ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس اور ان کے ساتھ شامل آزاد ارکان کی تعداد 47 ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں بھی ریپبلکنز کو چار نشستوں کی معمولی برتری حاصل ہے۔
ڈیموکریٹس نے انتخابی مہم میں مہنگائی کے بحران سے نمٹنے اور صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ وہ دونوں ایوانوں میں تاریخی کامیابی کے خواہاں ہیں، جس سے صدر کی مدت کے آخری دو برس کی سمت بدل سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ کم سطح کے قریب ہے اور تاریخی طور پر برسراقتدار صدر کی جماعت کو وسط مدتی انتخابات میں نقصان ہوتا رہا ہے۔ اس کے باوجود قدامت پسند امیدوار اپنے وفادار ووٹروں اور ترقی پسند سیاست پر عدم اعتماد کے سہارے ڈیموکریٹس کی متوقع کامیابی کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مشی گن میں ہیلی اسٹیونز نے، جو اگست میں ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری ہار گئی تھیں، اتوار کو اپنی جماعت کے امیدوار عبدالمید السید کے بجائے ریپبلکن مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کیا۔
ووٹنگ شروع ہونے کے بعد محکمہ انصاف نے اعلان کیا کہ وہ پولنگ کی نگرانی کے لیے تقریباً 1,000 مبصر تعینات کر رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ تمام 50 ریاستوں میں مبصر بھیجے گئے ہیں۔ شہری حقوق ڈویژن کی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ہرمیت کے ڈھلن نے اسے محکمے کی تاریخ کی سب سے بڑی نگرانی مہم قرار دیا۔











