قشم جزیرے پر امریکی حملے کی اطلاعات، ایرانی صدر کا جنگ کے خلاف مؤقف

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے منگل کو کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا اور ان کی حکومت مذاکرات کے ذریعے بحران کا حل چاہتی ہے۔ یہ بیان آبنائے ہرمز میں واقع قشم جزیرے پر امریکی حملوں کی اطلاعات کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق جزیرے پر یکے بعد دیگرے پانچ دھماکے ہوئے۔ نقصان کی حد اور ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔ وال اسٹریٹ جرنل نے نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے محدود حملوں کی خبر دی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں حملے کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق ہدف ایران کی ایک فضائی دفاعی تنصیب تھی اور یہ معمولی کارروائی تھی۔ انہوں نے مشتبہ زیرِ زمین ایرانی جوہری مرکز کو نشانہ بنانے کا امکان بھی ظاہر کیا۔ اسرائیلی فوج نے کارروائی میں شمولیت کی تردید کی ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ تہران کو جائز دفاع کا حق حاصل ہے۔ ایرانی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران جنگ کے لیے تیار ہے اور جنگ روکنے کی ذمہ داری واشنگٹن پر ہے۔
پزشکیان کے مطابق رہبرِ اعلیٰ نے حکومت کو ان امور پر بات چیت کے اضافی اختیارات دیے ہیں جو پہلے ممنوع سمجھے جاتے تھے۔ تہران امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور کسی بھی معاہدے پر عمل کی ضمانت کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔
قطر کے ذریعے دونوں فریقوں میں بالواسطہ رابطے جاری ہیں۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور معاہدے کی امید باقی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو مذاکرات جاری ہونے کی تصدیق کی، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کچھ پیش رفت کا ذکر کیا۔











