نیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئے

کراچی: نیپال پریمیئر لیگ کا تنازع شدت اختیار کر گیا، 8 میں سے 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان مصباح الحق کی ٹیم سودرپشچم رائلز نے خراب آؤٹ فیلڈ پر اعتراض اٹھایا۔ مصباح الحق کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کی حفاظت کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔
انہوں نے گیلی آؤٹ فیلڈ اور لائٹ ٹاور کی خرابی پر تحفظات کا اظہار کیا اور میچ کی اننگز پانچ اوور تک محدود کرنے کے فیصلے پر احتجاج کیا۔ طویل مذاکرات کے بعد میچ کھیلا گیا، جس میں برات نگر کنگز نے سودرپشچم رائلز کو 35 رنز سے شکست دے دی۔
دوسری جانب مصباح الحق نے کہا کہ ان کی ٹیم کے کپتان کو میچ کے بعد تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا۔
فیس کا تنازع
اس سے قبل پاکستان اور نیپال کرکٹ بورڈ کے درمیان نیپال پریمیئر لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت کے لیے 25 ہزار ڈالر فی کس فیس طلب کیے جانے پر بھی تنازع پیدا ہوا تھا۔
نیپالی کرکٹ بورڈ کے صدر نے کہا کہ پی سی بی کا عین موقع پر فیس کا مطالبہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ دوسری جانب پی سی بی ذرائع کے مطابق یہ فیس کھلاڑیوں سے نہیں بلکہ ان کی فرنچائزز سے طلب کی گئی۔
کھلاڑیوں کی واپسی
پاکستان کے 8 کرکٹرز صاحبزادہ فرحان، حسین طلعت، حیدر علی، حنین شاہ، افتخار احمد، حسن علی اور اسامہ میر لیگ میں شامل تھے۔ تاہم حسین طلعت کے سوا تمام کرکٹرز نے وطن واپسی کو ترجیح دی۔
لیگ 21 نومبر تک جاری رہے گی۔











