رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° جزوی بادل 22° / 11°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:06مغرب 17:42عشا 19:04
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ہرنائی: بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کا ڈپٹی کمشنر سے ملاقات، ضلعی ٹورنامنٹ پر اتفاقتربت: جامعہ تربت کے بی ایس بوٹنی طلبہ کا جوسک کے طفیل ایگریکلچرل فارم کا تحقیقی دورہلورالائی: ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں زرعی آمدنی ٹیکس اور محکمہ مال کا بارہواں جائزہ اجلاسدکی: ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی کا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کا دورہ اور معائنہدکی: ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی کی صدارت میں انسدادِ پولیو مہم کا جائزہ اجلاسگوادر: مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا پشکان کے ڈگارو میں نیو پمپنگ اسٹیشن کا افتتاحگوادر: مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا سربندن کے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کا دورہگوادر: ہاشو فاؤنڈیشن کے وفد کی ضلع کونسل گوادر کے چیئرمین شئے مختار بلوچ سے ملاقاتلسبیلہ: آر سی ڈی شاہراہ سے تین بارودی مواد ناکارہ، بم ڈسپوزل ٹیم کو سرٹیفکیٹ کا اعلانلسبیلہ: آر سی ڈی شاہراہ پر حادثات کی روک تھام کے لیے ڈیٹا کلیکشن کمیٹی قائمنصیرآباد: پٹ فیڈر کینال کے کاشتکاروں کو زرعی پانی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایتصحبت پور: ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین کی زیرصدارت ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کا اجلاس

پیٹرولیم قیمتوں میں کمی کی خوشخبری، ایل پی جی اور سردیوں کی گیس فراہمی پر حکومتی اقدامات

پیٹرولیم قیمتوں میں کمی کی خوشخبری، ایل پی جی اور سردیوں کی گیس فراہمی پر حکومتی اقدامات
فائل فوٹو: وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک — تصویر: بشکریہ www.radio.gov.pk

اسلام آباد: وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی خوشخبری ملے گی۔ انہوں نے یہ بات وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ لوگوں کو یقیناً بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ عالمی منڈی میں قیمتوں میں مزید کمی ہوئی ہے، جس کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گھریلو صارفین کو کھانا پکانے کے تینوں اوقات میں پائپ لائن کے ذریعے گیس کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ بڑے جہاز پاکستان پہنچ بھی جائیں تو انہیں اتارنے اور ذخیرہ کرنے کے لیے مناسب انفراسٹرکچر درکار ہوگا، اسی لیے حکومت ایل پی جی کے پورے درآمدی اور ترسیلی نظام کو ازسرنو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایل پی جی کی قلت اور قیمتیں

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ ملک میں ایل پی جی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے سے عام شہری مشکلات کا شکار ہیں۔ بعض شہروں میں ایل پی جی کی قیمت 700 سے 800 روپے فی کلو تک پہنچنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں، جبکہ مختلف علاقوں میں اس کی دستیابی کے مسائل بھی موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر گزشتہ چند روز سے متعلقہ شعبوں سے رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کی مجبوری سے ناجائز منافع کمانے کا سلسلہ روکا جا سکے۔

علی پرویز ملک کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کی مجموعی سالانہ طلب تقریباً 24 لاکھ ٹن ہے، یعنی روزانہ تقریباً 6 ہزار 500 سے 7 ہزار ٹن ایل پی جی درکار ہوتی ہے۔ ملک میں روزانہ تقریباً 2 ہزار سے 2 ہزار 500 ٹن ایل پی جی مقامی طور پر پیدا کی جاتی ہے، جس میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کرنے والی کمپنیوں (ای اینڈ پی) اور مقامی ریفائنریوں کا حصہ شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایل پی جی کی بڑی مقدار مغربی سرحد کے ذریعے پاکستان پہنچتی تھی، تاہم سرحدی سپلائی متاثر ہونے سے اس شعبے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ باقی ضروریات سمندری راستے سے درآمد کی جانے والی ایل پی جی سے پوری کی جاتی ہیں۔

ان کے مطابق سمندر کے ذریعے ایل پی جی درآمد کرنے کے لیے اینگرو اور ایس ایس جی سی ایل کے دو ٹرمینلز موجود ہیں، جن کی مجموعی ذخیرہ گنجائش تقریباً 14 ہزار ٹن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کی فراہمی کا نظام طویل عرصے تک مناسب منصوبہ بندی اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھے بغیر چلتا رہا، جس سے توانائی کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی کمی واضح ہوئی ہے۔

سردیوں کے لیے منصوبہ بندی

علی پرویز ملک نے کہا کہ دسمبر اور جنوری میں سردی اپنے عروج پر ہوگی، اس لیے حکومت ابھی سے گیس کی ضروریات پوری کرنے کے انتظامات کر رہی ہے۔ حکومت آئندہ سردیوں میں گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایل این جی درآمد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے گھریلو صارفین کو مہنگی ترین دستیاب گیس بھی خرید کر فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر گیس کی طلب اور رسد میں فرق برقرار رہا تو ریشننگ یا محدود فراہمی کا نظام بھی اختیار کرنا پڑ سکتا ہے۔

ملک میں تقریباً ایک کروڑ صارفین پائپ لائن نیٹ ورک سے منسلک ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں ایسے گھرانے بھی ہیں جو کھانا پکانے سمیت دیگر ضروریات کے لیے ایل پی جی استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سردیوں میں ان صارفین کے لیے بھی مناسب قیمت پر ایل پی جی کی دستیابی یقینی بنانا ضروری ہے۔

علی پرویز ملک نے بتایا کہ سعودی آرامکو ہر ماہ پروپین اور بیوٹین کے امتزاج پر مشتمل ایل پی جی کی کنٹریکٹ پرائس جاری کرتا ہے، جبکہ پاکستان میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ماہانہ قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے۔ ان کے مطابق ایل پی جی کی قیمتوں کے تعین میں حکومت کا براہ راست کردار محدود ہے، تاہم صارفین کو مقامی مارکیٹ میں ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ وزیراعظم، وفاقی حکومت، صوبوں اور متعلقہ اداروں نے توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور صوبائی حکومتوں کے تعاون کا بھی ذکر کیا۔ ریفائنریوں کے حالیہ تعاون اور وفاقی حکومت کی جانب سے تقریباً 130 ارب روپے کے وسائل استعمال کرنے سمیت مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عارضی اقدامات کے ساتھ ساتھ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں مستقل حل کی ضرورت ہے، جس کے لیے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، ریفائنریوں کی استعداد، ایل پی جی درآمدی ٹرمینلز اور پورے سپلائی نیٹ ورک کو بہتر بنانا ہوگا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پوری دنیا اس وقت تیل کے بحران سے دوچار ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم مشکل حالات کے باوجود وزیراعظم نے عوام کو تنہا نہیں چھوڑا اور انہیں زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عطا تارڑ کے مطابق پہلی مرتبہ ریفائنریوں کا منافع عوام کو منتقل کیا گیا ہے تاکہ عالمی بحران کے اثرات سے عوام کو ممکنہ حد تک محفوظ رکھا جا سکے۔ وزیراعظم نے سردیوں میں گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے بھی حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اشتہار