گوہر: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے باخبر تھے

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے، تاہم انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش آئند قرار نہیں دیا۔
اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی اپنی جماعت اور سیاست ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی اسمبلی میں تقریر پر انہوں نے مولانا سے کہا تھا کہ بعض الفاظ نہ بولتے تو مناسب ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر سمجھتے ہیں کہ سیاسی کشیدگی نہیں بڑھنی چاہیے۔ حکومتی نمائندوں نے جس طریقے سے جواب دیا وہ بھی نامناسب ہے۔ اگر ملک، قوم اور جمہوریت کے لیے کچھ کرنا ہے تو تناؤ کم کرنا ہوگا۔
بیرسٹر سلمان صفدر کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ 8 اپریل کے بعد اور 380 دن گزرنے کے بعد یہ سلمان صفدر کی پہلی ملاقات ہوئی ہے جو خوش آئند ہے۔ ملاقاتیں بند ہونے کی وجہ سے اتنا بڑا تناؤ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی قیدی کو 15 دن میں اس کی فیملی سے نہ ملوایا جائے تو یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ملاقاتیں ہوتیں تو بہتری آتی، یہ تناؤ نہ ہوتا اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی نوبت بھی نہ آتی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ ملاقات کے لیے اپنے نام کے فائنل ہونے کی تردید کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ سیاسی لوگوں کی ملاقات ہو، اور اپنے سمیت علامہ ناصر عباس کے نام کی بھی کوشش کی۔ سیاسی ملاقات نہ ہونے پر سلمان صفدر کی ملاقات کی کوشش کی جو ہو گئی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور سپیکر کی بازیابی کے مطالبے پر انہوں نے کہا کہ آج پشاور ہائیکورٹ میں سماعت تھی، جسے لارجر بینچ کو بھیجا گیا ہے، اور امید ہے کہ اس درخواست پر جلد سماعت ہوگی۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور سپیکر کا لاپتہ ہو جانا سمجھ سے باہر ہے۔











