رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 11° جزوی بادل 22° / 11°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:06مغرب 17:42عشا 19:04
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
حارث رئوف بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی نمائندگی کے لیے پرجوششمالی کوریا کا بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر کی چوری میں ملوث ہونے کے ایف بی آئی الزام کو مستردنیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئےیورپ کے سپر مارکیٹس میں فریزرز ہیک، سویڈن سے بیلجیم تک خوراک ضائع کرنا پڑیہاکی کا مستقبل روشن، سہولتوں کی کمی نہیں؛ جیت کے لیے ٹارگٹ سیٹ کرنا ہوگا: محی الدین وانیبیرسٹر گوہر: سیاسی تنائو مزید نہ بڑھایا جائے، مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جائےکوئٹہ کی عابدہ بتول عالمی ایٹم ویٹ ٹائٹل جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون باکسر بن گئیںایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات جاری، نئے علاقائی سکیورٹی انتظامات پر کوششبلاول بھٹو کی زیرِ صدارت پیپلز پارٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس، وزیراعظم سے ملاقات پر غورسر تال میوزک اکیڈمی کے باصلاحیت بچوں کا چرچا، علی ڈار کا اکیڈمی کا دورہگوہر: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے باخبر تھےٹرمپ کا انتباہ: ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت لیں تو ’مسٹر ویٹو‘ بن جاؤں گا

ٹرمپ کا انتباہ: ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت لیں تو ’مسٹر ویٹو‘ بن جاؤں گا

ٹرمپ کا انتباہ: ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت لیں تو ’مسٹر ویٹو‘ بن جاؤں گا
فائل فوٹو: امریکی کانگریس کی عمارت کیپیٹل ہل — تصویر: بشکریہ britannica.com

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو وہ ’مسٹر ویٹو‘ بن جائیں گے۔

ایک امریکی اخبار کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس نے کانگریس کا کنٹرول سنبھال لیا تو وہ ’مسٹر ویٹو‘ بن جائیں گے اور معاملات خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ کچھ عرصے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان معاملات طے پانے کے لیے مذاکرات ہو سکتے ہیں۔

امریکی صدر کے مطابق ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس کے بل مسلسل ویٹو کیے جاتے رہے تو ایک یا دو ماہ بعد وہ خود معاہدے کے لیے آگے آ سکتے ہیں۔

اشتہار