مریم نواز کا چودھری سالک حسین، نعیم اشرف بٹ اور اے آر وائی کو ہتکِ عزت کا نوٹس

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وفاقی وزیر چودھری سالک حسین، اے آر وائی کے اینکر نعیم اشرف بٹ اور چینل انتظامیہ کو قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔ نوٹس منگل کو جاری ہوا۔ اس میں پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ پر کرپشن کے الزامات پر اعتراض کیا گیا ہے۔
نوٹس کا تعلق اے آر وائی نیوز پر نشر ہونے والے اس انٹرویو سے ہے جس میں چودھری سالک حسین نے پنجاب حکومت پر الزامات لگائے۔ نوٹس کے مطابق گفتگو کا آغاز اینکر نے پنجاب میں مبینہ کرپشن کے ذکر سے کیا، جس کے بعد وفاقی وزیر نے صوبائی حکومت کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے، مگر کوئی قابلِ اعتبار ثبوت پیش نہیں کیا۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر جیسے منصب پر فائز شخص سے ذمہ دارانہ گفتگو کی توقع کی جاتی ہے اور سنی سنائی بات کو حقیقت کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ اینکر نے بھی الزامات کا ثبوت نہیں مانگا۔ نوٹس کے مطابق سیاسی تنقید ہر کسی کا حق ہے، مگر بے بنیاد الزامات پھیلائے نہیں جا سکتے۔
پاکستان ٹوڈے کے مطابق نوٹس میں پانچ ارب روپے ہرجانہ طلب کیا گیا ہے۔ مخاطبین سے کہا گیا ہے کہ وہ الزامات واپس لیں، غیر مشروط معافی اور وضاحت جاری کریں اور انٹرویو کے متعلقہ حصے ہٹائیں یا درست کریں۔ اس کے لیے سات دن کی مہلت دی گئی ہے، بصورتِ دیگر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس سے قبل اٹک میں ایک تقریب سے خطاب میں مریم نواز نے کہا تھا کہ اگر سالک حسین کے پاس ثبوت ہیں تو عوام کے سامنے لائیں، ورنہ انہیں عدالت میں گھسیٹا جائے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وہ پنجاب حکومت کو کرپٹ سمجھتے ہیں تو وفاقی وزارت پر کس اخلاقی جواز سے بیٹھے ہیں۔
چودھری پرویز الٰہی کی تعریف کے حوالے سے مریم نواز نے کہا کہ بارشوں کے دوران گجرات گئیں تو سڑکوں اور محلوں میں اتنا پانی جمع تھا کہ ان کی اپنی گاڑی ڈوب گئی۔
چودھری سالک حسین نے ردعمل میں کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں اور سوالات کے جواب ایمانداری سے دیے۔ ثبوت کے سوال پر انہوں نے انٹرویو دوبارہ سننے کا مشورہ دیا۔











