رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 20° صاف 22° / 10°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:05مغرب 17:42عشا 19:03
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
بلوچستان میں سیف سٹی منصوبوں پر پنجاب سے تعاون پر اتفاق، وزیراعلیٰ بگٹی کی زیر صدارت اجلاساسحاق ڈار کا جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر سے رابطہ، پیٹرولیم لیوی پر ٹیکنیکل کمیٹیوں کا اجلاس آجکوئٹہ: وزیر اعلیٰ بگٹی کی صدارت میں بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی کارکردگی کا جائزہحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 7 روپے 6 پیسے کمی کا اعلانایرانی عہدیدار: امریکا کے ساتھ جنگ بندی معاہدے سے ابھی بہت دوروفاقی کابینہ کی نئے کرنسی نوٹوں کی منظوری، دس روپے کا نوٹ سکے سے تبدیل ہوگاامریکی وسط مدتی انتخابات میں شکست کی وجہ ایران جنگ ہے: نائب صدر وینسامریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، برینٹ 99 ڈالر کے قریبامریکا کی ایران سے روابط پر بھارتی اور ترک کمپنیوں و افراد پر پابندیاںٹرمپ کی انتخابی شکست کے بعد امریکا ایران جنگ ختم ہونے کا امکان: ملیحہ لودھیری پبلکن سینیٹر تھام ٹلس کا ہیگسیتھ پر دفاعی فنڈنگ میں رکاوٹ کا الزام، ٹرمپ کی حمایت برقرارخواجہ آصف کا سالک حسین کے پنجاب میں کرپشن کے الزامات پر ردعمل
صفحہ اول› بلوچستان ›لسبیلہ

لسبیلہ: آر سی ڈی شاہراہ پر حادثات کی روک تھام کے لیے ڈیٹا کلیکشن کمیٹی قائم

لسبیلہ: کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی زیرصدارت لیڈا کانفرنس ہال میں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آر سی ڈی شاہراہ پر شرح حادثات کی ڈیٹا کلیکشن کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں ڈی سی لسبیلہ حمیرا بلوچ، ایس پی لسبیلہ نجیب پندرانی، ایس پی حب مرزا بلال حسن، اے ایس پی عدنان بشیر، نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کے ایس پی، ضلع لسبیلہ کے ضلعی ناظم صحت، ریسکیو 1122 کے مانیٹرنگ آفیسر دھنیش کمار لیاری اور وندر کے ریسکیو انچارج وسیم اور فاروق بھی شریک ہوئے۔

زیرو پوائنٹ حادثہ اور ریسکیو اقدامات

اجلاس میں اوتھل زیرو پوائنٹ حادثے کی وجوہات اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے میکانزم بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ریسکیو 1122 اور نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ زیرو پوائنٹ حادثے پر فوری ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں 39 ریسکیو مراکز ہیں، جن میں سے پانچ ضلع لسبیلہ اور حب میں ہیں۔ اکتوبر تک ٹریفک حادثات میں 204 مسافروں کو ریسکیو فرسٹ ایڈ دینے کے باوجود ان کی جانیں موقع پر ہی چلی گئیں۔

روک تھام کے فیصلے

اجلاس کے شرکاء نے آر سی ڈی ہائی وے پر پی ٹی کنٹریکٹرز کی مشینری، ہائی وے پر غلط پارکنگ اور ڈرائیوروں کی اوورٹیکنگ کو حادثات کی بنیادی وجوہات قرار دیا۔ اس سلسلے میں فیصلہ کیا گیا کہ ایف ڈبلیو او، موٹروے اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی جوائنٹ میٹنگ جلد بلائی جائے گی۔

اجلاس میں اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے انٹری پوائنٹس سے مسافروں کی اوورلوڈنگ روکی جائے گی۔ اس سلسلے میں فوری طور پر ٹرانسپورٹرز کے ساتھ میٹنگ کی جائے گی اور انہیں پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنی گاڑیوں سے ہیوی سرچ لائٹس فوری طور پر ہٹا دیں۔

کمشنر لسبیلہ ڈویژن نے کہا کہ شہریوں کے لیے محفوظ سفر یقینی بنانا اور ان کی جان کی سلامتی انتظامیہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اگر کوئی ٹرانسپورٹر آر ٹی اے ایکٹ کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

کمشنر لسبیلہ نے آر سی ڈی ہائی وے پر موٹرسائیکلوں کے ذریعے پٹرول کی ترسیل پر فوری پابندی اور کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کیے۔

اشتہار