انتخابات میں مبینہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات میں موساد بھی شین بیٹ کی معاون

اسرائیل: ملکی انتخابات میں مبینہ غیر ملکی مداخلت کی تحقیقات میں خفیہ ایجنسی موساد داخلی سلامتی ادارے شین بیٹ کی معاونت کرے گی۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ جمعہ کو سامنے آیا۔
رپورٹس کے مطابق موساد ان معاملات میں مدد دے گی جو اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں، جن میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ قطر نے مشترکہ فہرست (جوائنٹ لسٹ) کے انتظامی ڈھانچے کو ادائیگیاں کی ہوں۔ ہآرتس کے مطابق تحقیقات میں قطر کے علاوہ دیگر ممالک کے ممکنہ کردار کو بھی دیکھا جائے گا۔
شین بیٹ اس شبہے کی تحقیق کر رہا ہے کہ ووٹروں کو متحرک کرنے کے لیے بیرونِ ملک سے رقوم استعمال ہوئیں۔ یروشلم پوسٹ کے مطابق تحقیقات میں قطر اور ترکی سمیت غیر ملکی عناصر کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا انہوں نے عرب آبادیوں میں ووٹنگ پر اثر انداز ہونے کے لیے رقم بھیجی۔ یہ کارروائی مرکزی الیکشن کمیٹی کے چیئرمین جسٹس نوعم سولبرگ کی ہدایت پر شروع ہوئی۔
قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈین لیونے نے ریکارڈ شدہ بیان میں کہا کہ شین بیٹ کے سربراہ نے ایک روز قبل کمیٹی کے چیئرمین کو خفیہ معلومات پیش کیں، جن پر تحقیقات شروع ہوئیں۔ ان کے مطابق چیئرمین کی منظوری سے اہم نکات وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، قائد حزبِ اختلاف یائر لاپیڈ اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ کو بھی بتائے گئے۔
لیونے نے کہا کہ معلومات انتہائی خفیہ ہونے کے باعث بہت کم لوگوں کی ان تک رسائی ہے، تحقیقات کسی مخصوص برادری پر مرکوز نہیں اور صدر کو پیش کیے گئے انتخابی نتائج تبدیل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے دن بھر شائع ہونے والی بعض رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیا۔
ہآرتس کے مطابق معاملے سے واقف ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محدود نوعیت کا دکھائی دیتا ہے اور اس کا اثر، اگر کوئی ہوا، تو کم ہی ہوگا۔ تحقیقات مکمل ہونے پر نتائج الیکشن کمیٹی کے چیئرمین کو پیش کیے جائیں گے، جب کہ کمیٹی نے سکیورٹی پابندیوں کے دائرے میں رہتے ہوئے عوام کو جلد آگاہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔











