رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 22° / 11°فجر 05:25ظہر 12:16عصر 16:08مغرب 17:45عشا 19:06
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ہانگ کانگ سکسز: پاکستان مین ایونٹ سے باہر، پلیٹ فائنل میں پہنچ گیاآبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا، پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰخیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی ناگزیر تھی: وزیراعظم شہباز شریفعراقچی: امریکی خط مثبت قدم، امریکی حکام سے ملاقات کا ارادہ نہیں؛ ایرانی وفد دوحہ میںقشم جزیرے کے قریب ماہی گیر کشتیوں پر حملہ، دو لاپتا افراد بعد میں مل گئےگلگت بلتستان کے قومی دن پر وزیراعظم کا عوام کو مبارکباد کا پیغامایرانی وزیر خارجہ کی جرمن چانسلر کو انتباہ: ایران پر حملے کی صورت میں یورپ کو بھاری نقصاننیتن یاہو کا ٹرمپ پر ایران کے خلاف مشترکہ حملے کے لیے دباؤ، امریکی انتظامیہ میں اختلافاتبلوچستان کے مسائل کا حل بندوق نہیں، تعلیم اور جمہوری مکالمے میں ہے: سرفراز بگٹیگلگت بلتستان کے عوام کی قربانیاں ہماری مشترکہ تاریخ کا حصہ ہیں: صدر زرداریایف بی آر اکتوبر کا ٹیکس ہدف 156 ارب روپے سے پورا نہ کر سکاوزیراعظم کا دانش سکولوں کی تعمیر میں تیزی اور معیار پر سمجھوتہ نہ کرنے کا حکم

عالمی بینک: پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی، عدم مساوات بھی بڑھی

عالمی بینک: پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی، عدم مساوات بھی بڑھی
فائل فوٹو: عالمی بینک کا صدر دفتر — تصویر: بشکریہ www.flickr.com

اسلام آباد: عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 29 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امیر اور کم آمدنی والے گھرانوں کے درمیان فرق بھی بڑھا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2019 میں ملک میں غربت کی شرح 22 فیصد تھی، یعنی چھ برس میں اس میں سات فیصد پوائنٹ کا اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2024 میں تقریباً 7 کروڑ 26 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے تھے۔

عالمی بینک نے اس اضافے کی وجوہات میں مسلسل مہنگائی، ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور کارکنوں کی آمدنی میں کمی کو شامل کیا ہے۔ ان عوامل سے کم آمدنی والے گھرانے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ان کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

رپورٹ میں آمدنی کی عدم مساوات میں نمایاں اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ عدم مساوات کے اشاریے پر پاکستان کا اسکور 2018 میں 28.4 تھا جو 2025 میں بڑھ کر 32.7 ہو گیا۔

رپورٹ کے مطابق ملک کی تقریباً 23 فیصد آبادی، یعنی 5 کروڑ 76 لاکھ سے زائد افراد، یومیہ تین ڈالر سے کم پر گزارا کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2018-19 سے 2024-25 کے دوران حقیقی اجرتوں میں سالانہ اوسطاً 3.4 فیصد کمی ہوئی۔ یہ اعداد و شمار حکومت کے معاشی بحالی کے دعووں کے برعکس صورتحال ظاہر کرتے ہیں۔

موضوعات: