خواجہ آصف: سول حکومتیں پہلے گرفتار کرتی ہیں، الزام بعد میں سوچتی ہیں

سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیاسی انتقام کی روش پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتیں کسی کو گرفتار کرنا چاہیں تو پہلے گرفتار کرتی ہیں اور بعد میں سوچتی ہیں کہ کون سا الزام لگایا جائے۔
وہ ہفتے کو سیالکوٹ میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ جیو نیوز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ سول حکومتوں کا طرزِ عمل یہی رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وہ خود چار مرتبہ حراست میں لیے جا چکے ہیں اور ان کے بقول سیاسی انتقام کبھی ملک کے مفاد میں نہیں ہوتا۔
ان کے یہ ریمارکس ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور مرکزی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ پی ٹی آئی بارہا وفاقی حکومت پر سیاسی انتقام کا الزام لگاتی رہی ہے اور اس کے لیے بانی عمران خان اور دیگر رہنماؤں کی قید کا حوالہ دیتی ہے۔
اپوزیشن نے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر بھی تنقید کی ہے، جس کے باعث پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت غیر فعال ہو گئی۔ جیو نیوز کے مطابق وفاقی حکومت کے اس اقدام کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے کئی ارکان کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا۔











