ایران کے سپریم لیڈر کا فوج کو حکم: حملہ ہوا تو فوری اور جغرافیائی حدود کے بغیر جواب دیا جائے

تہران: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتے کو مسلح افواج کو ہدایت کی ہے کہ دوبارہ حملہ ہوا تو جواب فوری اور مؤثر ہو اور کسی جغرافیائی حد کا پابند نہ ہو۔ یہ ہدایت ایسے وقت آئی ہے جب ثالث ایران اور امریکا کے درمیان نئی جنگ روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سپریم لیڈر کے دفتر کے بیان کے مطابق انہوں نے سینئر فوجی کمانڈروں سے ملاقات میں “اہم اسٹریٹجک ہدایات” دیں۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ ایران کسی بھی نئے حملے کے خاتمے کا وقت اور شرائط خود طے کرے گا، جبکہ ہدف کی فہرست اپ ڈیٹ کرنے کا حکم بھی دیا گیا تاکہ امریکی اور اسرائیلی اثاثے ایرانی رسائی میں آئیں۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو انٹرویو میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے خط کو، جس کا ایران نے جائزہ لیا، مذاکرات کھولنے کی کوشش کے طور پر “مثبت قدم” قرار دیا۔ ان کے مطابق ایران جنگ کے امکان کو رد نہیں کرتا اور ہر صورت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے معاشی دباؤ کا اعتراف کیا مگر کہا کہ ایران جھکے گا نہیں۔
عراقچی کا کہنا تھا کہ ان کا نائب قطر میں ہے جہاں قطری اور پاکستانی ثالث ایران کی شرائط پر مشاورت کر رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی حکام سے فوری ملاقات کی خبروں کو میڈیا قیاس آرائی کہا اور بتایا کہ فی الحال ملاقات کی ضرورت نہیں۔
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے خبردار کیا کہ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر نئی مہم جوئی کی تو جنگ کہیں وسیع علاقے کو لپیٹ میں لے لے گی۔
ایرانی حکام کے مطابق ہفتے کو جزیرہ قشم کے قریب دو ماہی گیر کشتیوں پر امریکی حملہ ہوا۔ سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ہرمزگان کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس میں دو ماہی گیر لاپتا اور ایک زخمی ہوا۔











