عراقچی: امریکی خط مثبت قدم، امریکی حکام سے ملاقات کا ارادہ نہیں؛ ایرانی وفد دوحہ میں

دوحہ/تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے مذاکرات کا دروازہ کھولنے کی کوشش مثبت قدم ہے، تاہم امریکی حکام سے ملاقات کا اس وقت کوئی پروگرام نہیں۔ انہوں نے ہفتے کو الجزیرہ سے گفتگو میں بتایا کہ ایرانی وفد قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گیا ہے۔
عراقچی کے مطابق ایران نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں زیر غور لایا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خط کا مقصد اختلافات کو ہوا دینا ہے تو یہ واشنگٹن کی ایک اور غلطی ہوگی۔
ملاقاتوں سے متعلق خبروں کو انہوں نے محض میڈیا قیاس آرائی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ براہ راست یا بالواسطہ بات چیت کا انحصار ایران کی شرائط پوری ہونے پر ہے، اور قطر و پاکستان کے ثالث ان شرائط پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سی این بی سی کے مطابق ایک ذریعے نے بتایا کہ قطری ثالثوں نے جمعے کو تہران میں 12 گھنٹے سے زیادہ بات چیت کی۔ مقصد امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر ممکنہ حملوں کی بحالی روکنا تھا۔ انتخابات منگل 3 نومبر کو ہیں۔
عراقچی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کی ایرانی تجویز پر عمل درآمد کی مدت قطر کی پانچ دن کی تجویز کے مقابلے میں دو دن تک لانے پر بات ہوئی ہے۔ ایران کی شرائط میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد لگی پابندیوں کا خاتمہ، خطے میں امریکی افواج میں کمی، تیل کی چھوٹ کی بحالی اور قطر سمیت تمام منجمد رقوم کی واپسی شامل ہے۔ ایران عمان کے ساتھ طے شدہ بحری راستوں کو تسلیم کرنے کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔
عراقچی نے کہا کہ ایران ممکنہ حملے کو خارج از امکان نہیں سمجھتا اور اس کی افواج بلند ترین تیاری کی حالت میں ہیں۔ رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کسی بھی خطرے کا فوری اور جغرافیائی حدود سے آزاد جواب دینے کی بات کہی گئی۔
جنگ 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی تھی۔ 17 جون کو طے پانے والا ابتدائی معاہدہ چند ہفتوں بعد ٹوٹ گیا۔ آخری تصدیق شدہ امریکی حملے یکم ستمبر کو ہوئے تھے۔











