رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 22° / 11°فجر 05:25ظہر 12:16عصر 16:08مغرب 17:45عشا 19:06
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ہانگ کانگ سکسز: پاکستان مین ایونٹ سے باہر، پلیٹ فائنل میں پہنچ گیاآبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا، پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰخیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی ناگزیر تھی: وزیراعظم شہباز شریفعراقچی: امریکی خط مثبت قدم، امریکی حکام سے ملاقات کا ارادہ نہیں؛ ایرانی وفد دوحہ میںقشم جزیرے کے قریب ماہی گیر کشتیوں پر حملہ، دو لاپتا افراد بعد میں مل گئےگلگت بلتستان کے قومی دن پر وزیراعظم کا عوام کو مبارکباد کا پیغامایرانی وزیر خارجہ کی جرمن چانسلر کو انتباہ: ایران پر حملے کی صورت میں یورپ کو بھاری نقصاننیتن یاہو کا ٹرمپ پر ایران کے خلاف مشترکہ حملے کے لیے دباؤ، امریکی انتظامیہ میں اختلافاتبلوچستان کے مسائل کا حل بندوق نہیں، تعلیم اور جمہوری مکالمے میں ہے: سرفراز بگٹیگلگت بلتستان کے عوام کی قربانیاں ہماری مشترکہ تاریخ کا حصہ ہیں: صدر زرداریایف بی آر اکتوبر کا ٹیکس ہدف 156 ارب روپے سے پورا نہ کر سکاوزیراعظم کا دانش سکولوں کی تعمیر میں تیزی اور معیار پر سمجھوتہ نہ کرنے کا حکم

عراقچی: امریکی خط مثبت قدم، امریکی حکام سے ملاقات کا ارادہ نہیں؛ ایرانی وفد دوحہ میں

عراقچی: امریکی خط مثبت قدم، امریکی حکام سے ملاقات کا ارادہ نہیں؛ ایرانی وفد دوحہ میں
فائل فوٹو: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی — تصویر: بشکریہ en.mfa.ir

دوحہ/تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے مذاکرات کا دروازہ کھولنے کی کوشش مثبت قدم ہے، تاہم امریکی حکام سے ملاقات کا اس وقت کوئی پروگرام نہیں۔ انہوں نے ہفتے کو الجزیرہ سے گفتگو میں بتایا کہ ایرانی وفد قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گیا ہے۔

عراقچی کے مطابق ایران نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں زیر غور لایا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خط کا مقصد اختلافات کو ہوا دینا ہے تو یہ واشنگٹن کی ایک اور غلطی ہوگی۔

ملاقاتوں سے متعلق خبروں کو انہوں نے محض میڈیا قیاس آرائی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ براہ راست یا بالواسطہ بات چیت کا انحصار ایران کی شرائط پوری ہونے پر ہے، اور قطر و پاکستان کے ثالث ان شرائط پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سی این بی سی کے مطابق ایک ذریعے نے بتایا کہ قطری ثالثوں نے جمعے کو تہران میں 12 گھنٹے سے زیادہ بات چیت کی۔ مقصد امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر ممکنہ حملوں کی بحالی روکنا تھا۔ انتخابات منگل 3 نومبر کو ہیں۔

عراقچی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کی ایرانی تجویز پر عمل درآمد کی مدت قطر کی پانچ دن کی تجویز کے مقابلے میں دو دن تک لانے پر بات ہوئی ہے۔ ایران کی شرائط میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد لگی پابندیوں کا خاتمہ، خطے میں امریکی افواج میں کمی، تیل کی چھوٹ کی بحالی اور قطر سمیت تمام منجمد رقوم کی واپسی شامل ہے۔ ایران عمان کے ساتھ طے شدہ بحری راستوں کو تسلیم کرنے کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔

عراقچی نے کہا کہ ایران ممکنہ حملے کو خارج از امکان نہیں سمجھتا اور اس کی افواج بلند ترین تیاری کی حالت میں ہیں۔ رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کسی بھی خطرے کا فوری اور جغرافیائی حدود سے آزاد جواب دینے کی بات کہی گئی۔

جنگ 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی تھی۔ 17 جون کو طے پانے والا ابتدائی معاہدہ چند ہفتوں بعد ٹوٹ گیا۔ آخری تصدیق شدہ امریکی حملے یکم ستمبر کو ہوئے تھے۔