رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 22° / 11°فجر 05:25ظہر 12:16عصر 16:08مغرب 17:45عشا 19:06
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ہانگ کانگ سکسز: پاکستان مین ایونٹ سے باہر، پلیٹ فائنل میں پہنچ گیاآبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا، پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰخیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی ناگزیر تھی: وزیراعظم شہباز شریفعراقچی: امریکی خط مثبت قدم، امریکی حکام سے ملاقات کا ارادہ نہیں؛ ایرانی وفد دوحہ میںقشم جزیرے کے قریب ماہی گیر کشتیوں پر حملہ، دو لاپتا افراد بعد میں مل گئےگلگت بلتستان کے قومی دن پر وزیراعظم کا عوام کو مبارکباد کا پیغامایرانی وزیر خارجہ کی جرمن چانسلر کو انتباہ: ایران پر حملے کی صورت میں یورپ کو بھاری نقصاننیتن یاہو کا ٹرمپ پر ایران کے خلاف مشترکہ حملے کے لیے دباؤ، امریکی انتظامیہ میں اختلافاتبلوچستان کے مسائل کا حل بندوق نہیں، تعلیم اور جمہوری مکالمے میں ہے: سرفراز بگٹیگلگت بلتستان کے عوام کی قربانیاں ہماری مشترکہ تاریخ کا حصہ ہیں: صدر زرداریایف بی آر اکتوبر کا ٹیکس ہدف 156 ارب روپے سے پورا نہ کر سکاوزیراعظم کا دانش سکولوں کی تعمیر میں تیزی اور معیار پر سمجھوتہ نہ کرنے کا حکم

فرانس میں مظاہروں کے خدشے پر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات، پیرس میں سخت پابندیاں

فرانس میں مظاہروں کے خدشے پر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات، پیرس میں سخت پابندیاں
فائل فوٹو: فرانس میں مظاہروں کے موقع پر پولیس کی تعیناتی — تصویر: بشکریہ france24.com

پیرس: فرانس میں مہنگائی، سرکاری سہولتوں کی ابتری اور صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کے خلاف ہفتے کو ملک گیر مظاہروں سے پہلے 70 ہزار پولیس اور جینڈرمیری اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔ یہ مظاہرے ہیلووین کے دن ہو رہے ہیں اور اس سے پہلے دو ہفتے تک جاری رہنے والی بدامنی میں کئی شہروں میں دکانوں، کاروباری مراکز اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچ چکا ہے۔

وزیر داخلہ لوراں نونیز نے خبردار کیا کہ تشدد کا خطرہ بہت زیادہ ہے، خاص طور پر رات کے وقت، اور بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون کے تحت امن عامہ کو خطرہ ہونے کی صورت میں چہرہ ڈھانپنے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے، کیونکہ ہیلووین کے ماسک شناخت چھپانے کے لیے استعمال ہونے کا خدشہ ہے۔ امریکی سفارت خانے نے بھی اپنے شہریوں کو مظاہروں اور بڑے اجتماعات والے علاقوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

پیرس میں 17 اکتوبر جیسے واقعات سے بچنے کے لیے، جب مشتعل افراد نے سینکڑوں دکانیں لوٹ لی تھیں، اضافی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ یونین اور یلو ویسٹ کے مظاہرے پورٹ ڈی باگنولے سے پورٹ ڈی شارانتون تک بیرونی شاہراہوں پر محدود کیے گئے ہیں تاکہ شہر کے مرکز اور بڑے تجارتی علاقوں سے دور رہیں۔ ہفتے اور اتوار کو رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک پلیس ڈی لا ریپبلک اور لیس آل میں داخلہ بند رہے گا۔ شانزے لیزے کے اطراف بغیر سرپرست نابالغوں کے لیے رات 9 بجے کا کرفیو ہے، تاہم پیرس کی ایک عدالت نے اس سے قبل نابالغوں پر عائد کرفیو نقل و حرکت کی آزادی کے منافی قرار دے کر معطل کر دیا تھا۔ یونینوں اور طلبہ تنظیموں نے پابندیوں کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔

احتجاج ستمبر کے آخر میں اسکولوں کی خراب سہولتوں اور داخلہ نظام کے خلاف ہائی اسکول طلبہ نے شروع کیا تھا، بعد میں یہ مہنگائی اور سرکاری خدمات کے خلاف وسیع تحریک بن گیا۔ 17 اکتوبر کو حکام کے مطابق تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد نکلے، جبکہ اگلے ہفتے تعداد تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار رہی اور مظاہرے بڑی حد تک پرامن رہے، مگر پولیس نے 1300 سے زائد گرفتاریاں کیں۔

فرانس کے مظاہروں سے متاثر ہو کر جرمنی کے 30 سے زائد شہروں میں بھی ہفتے کو نوجوانوں کی ریلیاں طے ہیں۔ برلن پولیس کو براندن برگ گیٹ کے قریب تقریباً 10 ہزار افراد کی توقع ہے۔

موضوعات: