فرانس میں مظاہروں کے خدشے پر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات، پیرس میں سخت پابندیاں

پیرس: فرانس میں مہنگائی، سرکاری سہولتوں کی ابتری اور صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کے خلاف ہفتے کو ملک گیر مظاہروں سے پہلے 70 ہزار پولیس اور جینڈرمیری اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔ یہ مظاہرے ہیلووین کے دن ہو رہے ہیں اور اس سے پہلے دو ہفتے تک جاری رہنے والی بدامنی میں کئی شہروں میں دکانوں، کاروباری مراکز اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچ چکا ہے۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے خبردار کیا کہ تشدد کا خطرہ بہت زیادہ ہے، خاص طور پر رات کے وقت، اور بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون کے تحت امن عامہ کو خطرہ ہونے کی صورت میں چہرہ ڈھانپنے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے، کیونکہ ہیلووین کے ماسک شناخت چھپانے کے لیے استعمال ہونے کا خدشہ ہے۔ امریکی سفارت خانے نے بھی اپنے شہریوں کو مظاہروں اور بڑے اجتماعات والے علاقوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
پیرس میں 17 اکتوبر جیسے واقعات سے بچنے کے لیے، جب مشتعل افراد نے سینکڑوں دکانیں لوٹ لی تھیں، اضافی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ یونین اور یلو ویسٹ کے مظاہرے پورٹ ڈی باگنولے سے پورٹ ڈی شارانتون تک بیرونی شاہراہوں پر محدود کیے گئے ہیں تاکہ شہر کے مرکز اور بڑے تجارتی علاقوں سے دور رہیں۔ ہفتے اور اتوار کو رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک پلیس ڈی لا ریپبلک اور لیس آل میں داخلہ بند رہے گا۔ شانزے لیزے کے اطراف بغیر سرپرست نابالغوں کے لیے رات 9 بجے کا کرفیو ہے، تاہم پیرس کی ایک عدالت نے اس سے قبل نابالغوں پر عائد کرفیو نقل و حرکت کی آزادی کے منافی قرار دے کر معطل کر دیا تھا۔ یونینوں اور طلبہ تنظیموں نے پابندیوں کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔
احتجاج ستمبر کے آخر میں اسکولوں کی خراب سہولتوں اور داخلہ نظام کے خلاف ہائی اسکول طلبہ نے شروع کیا تھا، بعد میں یہ مہنگائی اور سرکاری خدمات کے خلاف وسیع تحریک بن گیا۔ 17 اکتوبر کو حکام کے مطابق تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد نکلے، جبکہ اگلے ہفتے تعداد تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار رہی اور مظاہرے بڑی حد تک پرامن رہے، مگر پولیس نے 1300 سے زائد گرفتاریاں کیں۔
فرانس کے مظاہروں سے متاثر ہو کر جرمنی کے 30 سے زائد شہروں میں بھی ہفتے کو نوجوانوں کی ریلیاں طے ہیں۔ برلن پولیس کو براندن برگ گیٹ کے قریب تقریباً 10 ہزار افراد کی توقع ہے۔











