خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی ناگزیر تھی: وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر خیبرپختونخوا میں بسایا گیا۔ ناگزیر حالات کے پیش نظر صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ کیا گیا۔ ان کے بقول گورنر راج اور ایمرجنسی نہ لگائی جاتی تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
انہوں نے یہ خیالات مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی اور عہدیداروں سے خطاب میں ظاہر کیے۔ شہباز شریف نے کہا کہ وہ بطور وزیراعظم پاکستان اور قائد محمد نواز شریف کے کارکن کی حیثیت سے مخاطب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا وطن عزیز کا خوبصورت صوبہ ہے اور یہاں کے عوام غیور، دلیر اور باوقار ہیں۔ ان کے مطابق مسلم لیگ ن نے صوبے میں جمہوری روایات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ 2013 کے انتخابات کے بعد قائد نواز شریف نے صوبے میں اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیا، اور ان کی جمہوری سوچ اور فراخ دلی نے خیبرپختونخوا میں جمہوریت کو آگے بڑھنے کا موقع دیا۔
دہشت گردی اور سیاسی دعوے
شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 13 سال برسراقتدار پارٹی کی طرف سے بلند و بانگ دعوے کیے گئے، مگر گزشتہ 13 برس میں صوبے میں کتنی یونیورسٹیاں اور ہسپتال بنائے گئے؟ عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم در تقسیم پر توجہ دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پشاور سے کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک عوامی مسائل عدم توجہی کا شکار رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے میں خیبرپختونخوا کے عوام نے عظیم قربانیاں دیں۔ عوام، پولیس، فوج اور سیاسی رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی اور معاشی نقصان اٹھایا۔
وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں پوری قوم اور اداروں نے مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔ اے پی ایس پشاور کا انتہائی دردناک واقعہ آج بھی ذہنوں میں تازہ ہے۔ ننھے بچوں کی شہادت کا سانحہ تاریخ میں ایک المناک مثال کے طور پر موجود رہے گا۔ خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال میں ملک میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کی گئی۔ 2014 کے دھرنے کے باعث چینی صدر کا دورۂ پاکستان موخر ہوا، جبکہ 2015 میں صدر شی جن پنگ کے دور میں پاکستان میں اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ ملک سے 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نواز شریف کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر بسایا گیا، جس کے بعد دہشت گردی دوبارہ سر اٹھانے سے ملک کو بہت نقصان پہنچا۔ انہوں نے ماضی کی طرح مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی دعوت دی، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی۔
معیشت اور گورنر راج کا پس منظر
شہباز شریف نے بتایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں خیبرپختونخوا کے لیے ایک فیصد اضافی وسائل مختص کرنے پر اتفاق ہوا۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کو اب تک 800 ارب روپے مل چکے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان 800 ارب روپے سے کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے، اور انسداد دہشت گردی کے محکمے کو کتنا مضبوط بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں پولیس کی 5 ہزار خالی اسامیوں پر بھرتی نہیں کی گئی، جبکہ دستیاب وسائل پولیس کو جدید اسلحے اور تربیت کی فراہمی پر خرچ ہونے چاہییں تھے۔
ان کے مطابق عسکری اور سیاسی قیادت نے ملکی معیشت مستحکم کرنے کے لیے مل کر شبانہ روز محنت کی۔ عالمی حالات اور خلیج جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ مشکلات کے باوجود حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے فیول سبسڈی اسکیم کا اجرا کیا، جس سے ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں۔ عوام کو ریلیف دینے کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے۔ طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا جاتا رہا، مگر منظوری نہ مل سکی۔
انہوں نے واضح کیا کہ عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔ بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی ترقی، خوشحالی اور عوامی خدمت کے لیے مسلم لیگ ن اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔











