ٹرمپ کا دعویٰ: روس اور یوکرین کے درمیان معاہدہ قریب ہو سکتا ہے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدہ قریب ہو سکتا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انہوں نے یہ بات دسمبر میں ہونے والے جی ٹوئنٹی اجلاس سے پہلے کہی، جو فلوریڈا میں ان کے ٹرمپ نیشنل ڈورل ریزورٹ میں ہوگا۔
ہفتے کو جاری ہونے والے قدامت پسند تبصرہ نگار بینی جانسن کے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ تنازع حل ہونے کا “اچھا خاصا امکان” ہے۔ ان کے بقول: “میرا خیال ہے ہم وہاں معاہدے کے بہت قریب پہنچ رہے ہیں۔” انہوں نے تسلیم کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان شدید دشمنی ہے۔
جی ٹوئنٹی میں روس یوکرین معاہدے کی اطلاعات کے بارے میں سوال پر ٹرمپ نے اس امکان کو رد نہیں کیا اور کہا کہ مذاکرات سے پیش رفت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی دیگر معاہدوں پر بھی کام ہو رہا ہے۔
ایران کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیت بری طرح کمزور ہو چکی ہے اور واشنگٹن اسے “ختم” کر دے گا۔
کیوبا کے حوالے سے انہوں نے پیش گوئی کی کہ وہاں کی کمیونسٹ قیادت زیادہ دیر اقتدار میں نہیں رہے گی، اور اشارہ دیا کہ وینزویلا کے بعد امریکا کی توجہ اس جزیرے کی طرف ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کیوبا کو “ناکام ملک” قرار دیا اور بتایا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔











