ایران امریکا جنگ بندی: قطر میں 12 گھنٹے طویل مذاکرات، ثالثی کی کوششیں تیز

دوحہ: امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ ختم کرانے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ ایرانی مذاکرات کار قطری ثالثوں سے بات چیت کے لیے دوحہ پہنچ گئے ہیں۔
مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار کے مطابق ایرانی وفد کی دوحہ آمد سے قبل جمعے کو تہران میں 12 گھنٹے سے زائد طویل مذاکرات ہوئے، جن کا مقصد جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی قابل قبول راستہ تلاش کرنا تھا۔
عہدیدار کے مطابق قطری ثالثی ٹیم مذاکرات کے دوران امریکی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہی، جبکہ دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق قطری ثالث امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد سازی کے ایسے اقدامات پر اتفاق کرانے کی کوشش کر رہے ہیں جن پر آئندہ چند روز میں عمل درآمد ممکن ہو سکے۔
ان اقدامات میں ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو رسائی دینے کی تجویز بھی شامل ہے، جس کے بدلے امریکا کی جانب سے بعض پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے مطالبات میں اختلاف برقرار ہے۔
امریکا چاہتا ہے کہ مذاکرات کے آغاز ہی سے ایران کے جوہری پروگرام پر رعایتیں دی جائیں، جبکہ تہران کا مطالبہ ہے کہ پہلے ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے، منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اور تیل کی برآمدات پر پابندیاں نرم کی جائیں۔
رپورٹ کے مطابق قطری ثالثوں کو مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی امید ہے اور دوحہ میں بات چیت جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران پاکستان، ترکی، مصر، عراق اور سعودی عرب بھی سفارتی کوششوں کے ذریعے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں۔











