کوئٹہ: پی اے سی کا محکمہ مواصلات و تعمیرات کے 12 ارب سے زائد بے قاعدہ اخراجات پر تشویش

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس آڈٹ رپورٹ 2023-24 میں شامل محکمہ مواصلات و تعمیرات کے آڈٹ پیراز پر غور کے لیے بلوچستان صوبائی اسمبلی کی نئی کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اصغر علی ترین نے کی۔
اجلاس میں کمیٹی اراکین ولی محمد نورزئی، رحمت صالح بلوچ، زمرک خان اچکزئی، فضل قادر مندوخیل، میرمحمد خان لہڑی، غلام دستگیر بادینی، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ شجاع علی، ایڈیشنل اکاؤنٹنٹ جنرل بلوچستان نورالحق، سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو بابر خان، اسپیشل سیکریٹری پی اے سی سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکریٹری قانون سعید اقبال، سی اینڈ ڈبلیو کے سپرنٹنڈنگ انجنیئرز، چیف انجینئرز، ایکزیکٹیو انجینئرز اور دیگر حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے مالیاتی اور آڈٹ معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق محکمہ مواصلات و تعمیرات نے مالی سال 2023-24 کے دوران 12 ارب 11 کروڑ سے زائد کے بے قاعدہ اخراجات کیے۔ چیئرمین اصغر علی ترین اور کمیٹی اراکین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف ایک مالی سال میں محکمے کی جانب سے اتنی بڑی رقم کے بے قاعدہ اخراجات محکمے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ کمیٹی نے ایک اور پیرا پر 13 کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ بے ضابطگیوں پر 100 فیصد ریکوری کی ہدایت دی۔
پروجیکٹ ڈائریکٹرز کے نظام اور فنڈز کے لیپس پر اعتراضات
اجلاس میں مالی سال 2022-23 کے دوران محکمے کو ترقیاتی اور غیر ترقیاتی مد میں مختص کیے گئے 44 ارب 42 کروڑ 71 لاکھ روپے سے زائد فنڈز اور ان میں سے 41 ارب 18 کروڑ روپے سے زائد کے اخراجات کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمے نے 3 ارب 24 کروڑ روپے سے زائد کی رقم بروقت استعمال نہیں کی، جو لیپس ہو گئی۔
کمیٹی اراکین نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی مالی سال میں مختص فنڈز استعمال نہیں ہو سکتے تو انہیں بروقت سرنڈر کیا جانا چاہیے تاکہ یہ رقم دیگر ضروری ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی جا سکے اور عوامی وسائل ضائع ہونے سے بچائے جا سکیں۔
چیئرمین کمیٹی اصغر علی ترین نے محکمے میں جاری منصوبوں کے لیے پروجیکٹ ڈائریکٹرز (PDs) کی تعیناتی کے نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی اس نظام کے حق میں نہیں ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز کے تحت جاری تمام منصوبوں کی تفصیلی رپورٹس کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب متعلقہ محکمہ پہلے سے موجود ہے تو منصوبوں کی تکمیل کے لیے علیحدہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی ضرورت اور جواز واضح ہونا چاہیے۔
رکن کمیٹی محمد خان لہڑی نے کہا کہ جب محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات اور محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ذریعے منصوبے شروع کیے جاتے ہیں تو ان کی ذمہ داری متعلقہ محکمے کو سونپی جانی چاہیے اور عملدرآمد بھی اسی محکمے کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ غیر ضروری طور پر علیحدہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز تعینات کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض منصوبے مکمل نہ ہونے کی صورت میں بالآخر متعلقہ محکمے ہی کے حوالے کر دیے جاتے ہیں، جس سے اس نظام کی افادیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
کمیٹی اراکین نے نشاندہی کی کہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے بعد سرکاری گاڑیوں کی خریداری، بھاری تنخواہوں اور اضافی عملے کی تقرریوں کی صورت میں سرکاری خزانے پر مزید بوجھ پڑتا ہے۔ بعض منصوبوں میں پروجیکٹ ڈائریکٹرز کو مناسب عملے کے بغیر تعینات کیا جاتا ہے اور بعد ازاں اپنی سطح پر عملہ بھرتی کیا جاتا ہے، جس سے غیر ضروری اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ کمیٹی نے اس حوالے سے جامع تفصیلات طلب کر لیں۔
زائد ادائیگیوں اور اسپیشل آڈٹ کے فیصلے
پی اے سی نے نصیرآباد، نوشکی، ژوب و دیگر اضلاع کے مختلف منصوبوں سمیت کچھی پلین واٹر سپلائی اسکیم اور بلوچستان ذرائع معاش اور انٹرپرینیورشپ پروجیکٹ (BLEP) کی اسپیشل آڈٹ کا حکم دیا۔
اجلاس میں آڈٹ پیرا 4.2.1 کے مطابق مختلف بلڈنگ ڈویژنز میں مالی سال 2021-22 اور 2022-23 کے دوران ٹھیکیداروں کو مقررہ اور منظور شدہ نرخوں سے زائد ادائیگیوں اور مقدار کے حساب میں غلطیوں کے باعث 9 کروڑ 3 لاکھ 41 ہزار روپے کی زائد ادائیگی کی نشاندہی کی گئی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق اس معاملے پر متعلقہ دفاتر کو ریکوری اور ضروری ریکارڈ آڈٹ کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم رپورٹ کی حتمی تکمیل تک پیش رفت سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ کمیٹی نے اس پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ محکمے کو ہدایت کی کہ زائد ادائیگیوں کی مکمل تفصیلات، ضروری ریکارڈ اور ریکوری کی صورت حال پیش کی جائے اور سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی 100 فیصد وصولی یقینی بنائی جائے۔
اجلاس میں ضلع شیرانی سمیت مختلف اضلاع کے تعمیراتی منصوبوں میں آڈٹ اعتراضات اور ان پر عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ آڈٹ پیرا 4.2.2 کے تحت مختلف بلڈنگ ڈویژنز میں منظور شدہ پی سی ون، تخمینہ جات اور معاہدوں میں درج مقدار سے زائد تعمیراتی کاموں کی ادائیگیوں کے باعث 4 کروڑ 4 لاکھ 14 ہزار روپے کی بے ضابطگی کی نشاندہی کی گئی۔ کمیٹی نے اس پیرا پر متعلقہ حکام کو دس روز کے اندر 100 فیصد ریکوری یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں منظور شدہ نرخوں، مقدار اور معاہدوں کی پابندی ہر صورت یقینی بنائی جائے، جبکہ سرکاری خزانے سے ہونے والی ہر ادائیگی کا مکمل ریکارڈ اور شفافیت برقرار رکھی جائے۔ کمیٹی نے آڈٹ اعتراضات پر بروقت عملدرآمد اور ذمہ داران سے رقوم کی وصولی کو ناگزیر قرار دیا۔
محکمے کی جانب سے دیگر آڈٹ پیراز کے حوالے سے مکمل تیاری اور مطلوبہ ریکارڈ پیش نہ کیے جانے کے باعث ان پر مزید کارروائی مؤخر کر دی گئی۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ باقی ماندہ آڈٹ پیراز کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس 30 نومبر کو صبح دس بجے منعقد کیا جائے گا۔











