گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی مولانا فضل الرحمان پر تنقید، انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشنز کا اعلان

پشاور: خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اقتدار میں حصہ نہ ملنے پر شکوہ ہے۔ وہ پشاور میں ایک تقریب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
گورنر کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشنز کیے جا رہے ہیں، جن سے صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے خلاف جنگ لڑنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی اور یہ جنگ ہر قیمت پر جیتی جائے گی۔
فیصل کریم کنڈی نے سوال اٹھایا کہ مولانا فضل الرحمان پی ڈی ایم حکومت کا حصہ تھے تو انہوں نے کس کو گورنر مقرر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب کے بچے جہاد کے لیے جائیں اور اپنے بچے یورپ اور ترکی بھیجے جائیں، یہ پالیسی اب نہیں چلے گی۔
گورنر نے یہ بھی کہا کہ سابقہ صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کا ساتھ نہیں دیا۔ ان کے بقول اس جنگ کو مکمل سیاسی ملکیت دی جائے گی، تاہم سابق حکومت کے اچھے اقدامات جاری رہیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا پولیس میں 10 ہزار نہیں بلکہ 17 ہزار آسامیاں خالی ہیں، جو شفاف طریقے سے جلد پُر کی جائیں گی۔ پولیس کو جدید اسلحے سے لیس کیا جائے گا۔
گورنر نے صوبائی محکموں میں کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ خزانہ میں بلوں کی منظوری 12 فیصد کٹوتی کے بعد ہوئی۔ متعلقہ ادارے تحقیقات کر رہے ہیں اور ٹھوس شواہد ملتے ہی نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
ہیلی کاپٹر کے استعمال پر تنقید کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ گورنر، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے لیے ہوتا ہے اور انہوں نے اسے سرکاری مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ ان کے مطابق تجاوزات کے خلاف مہم سے متاثرہ افراد کی شکایات کے ازالے اور ریڑھی بانوں کو متبادل جگہ دینے کے لیے طریقہ کار بنایا جا رہا ہے۔ پولیو ورکرز پر حملوں کے واقعات سے نمٹنے کے لیے بھی کام جاری ہے۔











