این اے 77 ضمنی انتخاب: الیکشن کمیشن کا عطا اللہ تارڑ اور راشد بشیر وڑائچ کو نوٹس

گوجرانوالہ: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے 77 گوجرانوالہ کے ضمنی انتخاب کے دوران ضابطۂ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ نوٹس ہفتے کو ضلعی مانیٹرنگ آفیسر کی جانب سے جاری ہوا۔
پنجاب کے صوبائی الیکشن کمشنر کے دفتر کی پریس ریلیز کے مطابق میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ وفاقی وزیر نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے حلقے کا دورہ کیا اور ایک اجتماع میں شرکت کی۔ وہ مسلم لیگ ن کے امیدوار راشد بشیر وڑائچ کی انتخابی مہم میں شریک ہوئے تھے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ انتخابی مہم میں وفاقی وزرا کی شرکت ضابطۂ اخلاق کی شق 18 اور 41 کی خلاف ورزی ہے۔ الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 182 کا بھی حوالہ دیا گیا، جو ممنوعہ مدت میں انتخابی مہم میں حصہ لینے سے متعلق ہے۔
عطا اللہ تارڑ کو 8 نومبر کو صبح 11 بجے ضلعی مانیٹرنگ آفیسر کے سامنے پیش ہو کر اپنا مؤقف دینے کا کہا گیا ہے۔ کمیشن نے ضلعی مانیٹرنگ آفیسر اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر سے انکوائری رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ وفاقی وزیر کو ذاتی حیثیت میں کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ حتمی فیصلے تک حلقے کا نتیجہ روکا جا سکتا ہے۔
کمیشن نے راشد بشیر وڑائچ کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے عطا اللہ تارڑ کو انتخابی مہم کے لیے حلقے میں مدعو کیا۔ انہیں بھی 8 نومبر کو صبح 11 بجے ضلعی مانیٹرنگ آفیسر کے سامنے وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نوٹس کے مطابق پیش نہ ہونے پر یکطرفہ کارروائی شروع کی جائے گی۔
این اے 77 گوجرانوالہ ون اور پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 203 ساہیوال سکس ضمنی انتخاب کے لیے خالی ہیں۔ دونوں نشستیں مسلم لیگ ن کے ارکان کے انتقال سے خالی ہوئیں۔ این اے 77 پانچ بار رکن قومی اسمبلی رہنے والے چودھری محمود بشیر ورک کے 11 ستمبر کو انتقال سے خالی ہوئی۔











