ٹرمپ کی ڈیموکریٹس کو امیگریشن اور ٹیکس پر بات چیت کی پیشکش

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے نقصان کے بعد ڈیموکریٹس کے ساتھ امیگریشن، ٹیکس اور معاشی ترقی کے معاملات پر کام کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے جمعہ کی شام فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ امیگریشن، ٹیکسوں میں کمی یا ٹیکس نظام کو سہل بنانے سے متعلق اقدامات اور معاشی ترقی کے کئی منصوبوں پر مل کر کام ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کوئی ٹھوس قانونی تجویز یا مذاکرات کا وقت نہیں بتایا۔
ان کے مطابق نومنتخب ارکان نے اپنی ریاستوں سے متعلق امور پر انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے ٹیکساس اور ساؤتھ کیرولائنا کا ذکر کیا، مگر کسی عہدیدار کا نام نہیں لیا اور نہ کسی ملاقات کا اعلان کیا۔
صدر نے تسلیم کیا کہ ری پبلکنز کے لیے انتخابی رات مشکل تھی۔ انہوں نے اس کا الزام کانگریس کی غیر فعالیت اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں پر ڈالا اور کہا کہ وہ خود بیلٹ پر نہیں تھے۔
ٹرمپ نے ڈیموکریٹس پر ایک گروپ کی صورت میں ووٹ دینے اور بعض ری پبلکنز پر قانون سازی روکنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے سینیٹ میں ری پبلکن رہنما جان تھون پر زور دیا کہ وہ کام تیز کریں، اور ججوں اور انتظامی نامزدگیوں کی منظوری کا بھی ذکر کیا۔
نئی کانگریس جنوری میں اپنا کام شروع کرے گی۔ تب تک سبکدوش ہونے والی کانگریس زیرِ التوا قانون سازی اور نامزدگیوں پر کارروائی کر سکتی ہے۔
اسی موقع پر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسٹیفن ملر نئے وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف ہوں گے۔ انہوں نے ملر کی لگن کی تعریف کی اور اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ تبدیلی انتخابات کے بعد انتظامیہ کی ناراضی کا نتیجہ ہے۔











