فواد چوہدری کا حکومت سے مطالبہ: مولانا فضل الرحمان کے بارے میں پالیسی پر نظرثانی کی جائے

لاہور: سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان صرف ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ مذہبی رہنما بھی ہیں، اس لیے حکومت کو ان کے بارے میں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ وہ لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے بھی کہا کہ وہ اپنے تلخ بیانات واپس لیں، جبکہ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ مثبت سمت میں قدم بڑھائے۔
فواد چوہدری کے مطابق پاکستان نے گزشتہ چند برسوں میں بین الاقوامی سطح پر ایک منفرد مقام حاصل کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ملکی قیادت کو دنیا بھر میں جو پذیرائی مل رہی ہے، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے رہنما چین جائیں یا امریکہ، ہر جگہ ان کا استقبال ہوتا ہے، جبکہ سعودی عرب اور ایران دونوں پاکستان کی بات سنتے ہیں۔ ان کے بقول امریکہ بھی پاکستان کے موقف کو اہمیت دیتا ہے اور اس حیثیت کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔
سابق وفاقی وزیر نے زور دیا کہ بیرونی سطح پر اس مقام کو قائم رکھنے کے لیے ملک کے اندرونی حالات درست کرنا ضروری ہے اور سیاسی ماحول بہتر بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے چار سال میں ملک میں تلخی بہت بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول 400 روپے تک پہنچ گیا اور مہنگائی کے باعث عوام کی تکلیف میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو حکمران طبقے کو جو سہولتیں حاصل ہیں، وہ بھی ختم ہو جائیں گی۔ فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ملک اب تک اپنے خاص طبقے کو پالتا رہا ہے، اور اگر ہم نے اپنی چیزوں پر نظرثانی نہ کی تو اسے پالنا بھی مشکل ہو جائے گا۔
تحریک انصاف کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف، تحریک تحفظ آئین کی قیادت اور سلمان اکرم راجہ سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ ان کے مطابق مذاکرات ان رہنماؤں سے کیے جائیں جو کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں، جن میں شاہ محمود قریشی اور ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر زیر حراست رہنما شامل ہیں۔ انہوں نے حماد اظہر سمیت دیگر رہنماؤں کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر زیر حراست پی ٹی آئی قیادت کو ریلیف دیا جائے تو مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔
نئے صوبوں کے معاملے پر فواد چوہدری نے کہا کہ جب سے محسن نقوی نے نئے صوبوں کی بات کی ہے، مسلم لیگ ن نے ان کے خلاف مہم شروع کر دی ہے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے خلاف ہیں، جبکہ تحریک انصاف نئے صوبوں کی حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس معاملے پر تحریک انصاف سے بات کرنی چاہیے۔











