رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 11° جزوی بادل 23° / 10°فجر 05:29ظہر 12:16عصر 16:03مغرب 17:40عشا 19:02
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی صدارت میں امراض قلب ادارے کے بورڈ کا پہلا اجلاسایف پی ایس سی کا گریڈ 16 سے 20 تک مختلف وفاقی محکموں میں بھرتیوں کا اعلانغزہ میں سردیوں کی پہلی بارش، 70 ہزار خیمے زیرِ آب، ابتدائی نقصان تقریباً 3 ملین ڈالرعثمان خواجہ کا دعویٰ: 2018 کے بال ٹیمپرنگ سے پوری ٹیم واقف تھی، لیہمن کا ردعملٹرمپ کی ڈیموکریٹس کو امیگریشن اور ٹیکس پر بات چیت کی پیشکشسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: پاکستانی اسکواڈ میں چار کھلاڑیوں کا اضافہ، تین کی پہلی طلبیپولینڈ کے شہر کراکوف کے مرکزی چوک میں کار سوار شخص کی فائرنگ، چھ افراد ہلاک، 15 زخمیانڈر 19 ایشیا کپ: پاکستان اور بھارت کا میچ اتوار کو العامرات میںہیگسیتھ اور روبیو کے استعفے کی خبریں مسترد، وائٹ ہاؤس کی تردیدرنبیر کپور کا اعلان: اگلے دو تین برس میں ہدایت کاری کا آغاز کروں گااین اے 77 ضمنی انتخاب: الیکشن کمیشن کا عطا اللہ تارڑ اور راشد بشیر وڑائچ کو نوٹسوویک اوبرائے کا انکشاف: متنازع دور میں فلمیں چھنیں، انڈر ورلڈ کی دھمکیوں کا دعویٰ

عثمان خواجہ کا دعویٰ: 2018 کے بال ٹیمپرنگ سے پوری ٹیم واقف تھی، لیہمن کا ردعمل

عثمان خواجہ کا دعویٰ: 2018 کے بال ٹیمپرنگ سے پوری ٹیم واقف تھی، لیہمن کا ردعمل
فائل فوٹو: ڈیرن لیہمن، سابق ہیڈ کوچ — تصویر: بشکریہ denverpost.com

سڈنی: آسٹریلیا کے سابق اوپنر عثمان خواجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 2018 کے بال ٹیمپرنگ اسکینڈل کا علم پوری آسٹریلوی ٹیم کو تھا، جبکہ سابق ہیڈ کوچ ڈیرن لیہمن نے ان انکشافات پر سوال اٹھایا ہے۔

خواجہ کے مطابق یہ معاملہ صرف بلے بازوں یا گیند بازوں تک محدود نہیں تھا بلکہ کھلاڑی اور سپورٹ اسٹاف سب شامل تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ذمہ داری سب پر عائد ہوتی ہے۔ یہ باتیں انہوں نے اپنی آنے والی خود نوشت «صبر» کی اشاعت سے پہلے انٹرویوز میں کہیں۔

اب تک کرکٹ آسٹریلیا کی تحقیقات کے مطابق صرف اسٹیو اسمتھ، ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکرافٹ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ اسمتھ اور وارنر پر ایک ایک سال اور بینکرافٹ پر نو ماہ کی پابندی لگی تھی۔

خواجہ نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ آٹھ سال میں کوئی اور کھلاڑی سچ بتائے گا، مگر ایسا نہ ہوا۔ ان کے بقول وہ ٹیسٹ میں بینکرافٹ کے برابر بیٹھے تھے، اس کے باوجود تحقیقات میں ان سے بات نہیں کی گئی اور وہ فون کا انتظار کرتے رہے۔

مچل اسٹارک، پیٹ کمنز، جوش ہیزل ووڈ اور ناتھن لائن 2021 میں مشترکہ بیان میں واضح کر چکے ہیں کہ انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔

اے بی سی گرینڈ اسٹینڈ پر گفتگو میں لیہمن نے کہا کہ بعض باتیں کھیل اور متعلقہ لوگوں کے مفاد میں نہ کہی جائیں تو بہتر ہے۔ انہوں نے کتابوں کو فروخت کا ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ خواجہ نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔

لیہمن کے مطابق انہیں یاد نہیں کہ خواجہ نے اس وقت اجتماعی ذمہ داری کی بات کی ہو، کیونکہ کیپ ٹاؤن میں دو ڈریسنگ روم تھے اور ہر طرف اجلاس ہو رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں سب کو علم نہیں تھا، اور یہ فیصلہ اسٹارک، کمنز، ہیزل ووڈ اور لائن پر ہے کہ وہ خواجہ سے بات کریں۔

موضوعات:
اشتہار