رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 11° جزوی بادل 23° / 11°فجر 05:28ظہر 12:16عصر 16:04مغرب 17:41عشا 19:03
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
لوئر چترال پولیس کی منشیات کے خلاف کمیونٹی مہم کے حوصلہ افزا نتائجاے این پی کا صوبائی اجلاس، امن و امان پر تشویش اور جلسے کی تیاریوں کا جائزہشانگلہ میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، کاروبار اور معمولات زندگی مفلوجبیکن ہاس کینال سائیڈ میں جونیئر بچوں کا سپورٹس گالا منعقدآر پی او ملاکنڈ زاہد نواز مروت کا شانگلہ کا دورہ، شجرکاری اور ترقیاتی کاموں کا معائنہپاکستان، سری لنکا پہلے ٹیسٹ کے ٹکٹ جمعہ سے فروخت ہوں گےمدینہ منورہ پر حوثی حملے کی علما کونسل کی شدید مذمتاکتوبر میں 5 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹر، کل تعداد 3 لاکھ 21 ہزار سے تجاوزکشمیر چوک انڈر پاس 27 دن میں مکمل، وزیراعظم کی تقریب سے خطابقومی کرکٹرز کو افغانستان پریمئر لیگ کے لیے این او سی نہیںبھارتی سموگ پاکستان سمیت خطے کی فضا کو زہر آلود کرنے لگیآر پی او زاہد نواز مروت کا شانگلہ میں امن و امان پر زور

شانگلہ میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، کاروبار اور معمولات زندگی مفلوج

شانگلہ میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، کاروبار اور معمولات زندگی مفلوج
فائل فوٹو — تصویر: بشکریہ pakobserver.net

شانگلہ: ضلع شانگلہ میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ اور غیر اعلانیہ بندش کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ بجلی کی بندش کا دورانیہ پانچ گھنٹے سے تجاوز کر گیا ہے، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اور معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

بالائی علاقوں میں سرد موسم کے آغاز کے ساتھ ہی طویل بندش معمول بن جاتی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد کو ہوتا ہے، جن کے پاس سولر سسٹم، جنریٹر یا بجلی کے دیگر متبادل ذرائع موجود نہیں ہیں۔

ضلع دو بڑے ڈیموں کے ذریعے 85 میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کر کے نیشنل گرڈ کو فراہم کرتا ہے، جبکہ ضلع کی اپنی مجموعی ضرورت ساڑھے چار سے ساڑھے چھ میگاواٹ کے درمیان ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق ڈیموں کی تعمیر سے مقامی پن بجلی گھروں کا نظام بری طرح متاثر ہوا، اور سینکڑوں چھوٹی پن چکیاں پانی کی فراہمی متاثر ہونے سے ناکارہ ہو گئیں۔

جمعرات کے روز صبح 11 بجے بند ہونے والی بجلی سہ پہر 3 بجے تک بحال نہ ہو سکی۔ واپڈا حکام کی جانب سے بندش کی وجوہات اور بحالی کے بارے میں کوئی واضح وضاحت سامنے نہیں آئی، اور متعلقہ حکام سے رابطے کی کوششوں کے باوجود فون کالز کا جواب نہیں دیا جا رہا۔

عوامی حلقوں نے وفاقی وزیر توانائی اور واپڈا حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شانگلہ کو اس کی مقامی ضرورت کے مطابق لوڈشیڈنگ اور طویل غیر اعلانیہ بندش سے فوری استثنا دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیموں کی تعمیر کے موقع پر مقامی آبادی سے کیے گئے معاہدوں اور یقین دہانیوں پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

اشتہار