شانگلہ میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، کاروبار اور معمولات زندگی مفلوج

شانگلہ: ضلع شانگلہ میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ اور غیر اعلانیہ بندش کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ بجلی کی بندش کا دورانیہ پانچ گھنٹے سے تجاوز کر گیا ہے، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اور معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔
بالائی علاقوں میں سرد موسم کے آغاز کے ساتھ ہی طویل بندش معمول بن جاتی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد کو ہوتا ہے، جن کے پاس سولر سسٹم، جنریٹر یا بجلی کے دیگر متبادل ذرائع موجود نہیں ہیں۔
ضلع دو بڑے ڈیموں کے ذریعے 85 میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کر کے نیشنل گرڈ کو فراہم کرتا ہے، جبکہ ضلع کی اپنی مجموعی ضرورت ساڑھے چار سے ساڑھے چھ میگاواٹ کے درمیان ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق ڈیموں کی تعمیر سے مقامی پن بجلی گھروں کا نظام بری طرح متاثر ہوا، اور سینکڑوں چھوٹی پن چکیاں پانی کی فراہمی متاثر ہونے سے ناکارہ ہو گئیں۔
جمعرات کے روز صبح 11 بجے بند ہونے والی بجلی سہ پہر 3 بجے تک بحال نہ ہو سکی۔ واپڈا حکام کی جانب سے بندش کی وجوہات اور بحالی کے بارے میں کوئی واضح وضاحت سامنے نہیں آئی، اور متعلقہ حکام سے رابطے کی کوششوں کے باوجود فون کالز کا جواب نہیں دیا جا رہا۔
عوامی حلقوں نے وفاقی وزیر توانائی اور واپڈا حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شانگلہ کو اس کی مقامی ضرورت کے مطابق لوڈشیڈنگ اور طویل غیر اعلانیہ بندش سے فوری استثنا دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیموں کی تعمیر کے موقع پر مقامی آبادی سے کیے گئے معاہدوں اور یقین دہانیوں پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو سکا۔











