امریکا کا سعودی عرب سے غیر ہنگامی سرکاری عملے اور اہل خانہ کو نکلنے کا حکم

ریاض: امریکی سفارت خانے نے جمعے کو بتایا کہ واشنگٹن نے سعودی عرب میں تعینات غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم 23 اکتوبر سے نافذ ہے اور اس کی وجہ سلامتی کو لاحق خطرات بتائی گئی ہے۔
سفارت خانے کے مطابق حوثیوں کے حملے سول ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں، جس سے جانی نقصان ہوا اور سفر میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ سفارت خانے نے خبردار کیا کہ صورت حال تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔
حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد امریکی سرکاری ملازمین کو سعودی ہوائی اڈے استعمال کرنے کے لیے خصوصی اجازت لینا ہوگی۔ امریکی شہریوں کو مزید حملوں، فضائی حدود کی بندش اور پروازوں کی منسوخی کے امکان سے آگاہ کیا گیا ہے۔
سفارت خانے نے شہریوں کو فضائی سفر میں انتہائی احتیاط کی ہدایت کی اور سعودی قوانین کے پیش نظر میزائل روکے جانے یا حملوں کے مقامات کی تصاویر بنانے سے منع کیا۔
سفارتی بیان کے مطابق ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ جزوی طور پر بحال ہو چکا ہے، جبکہ جدہ اور دمام کے ہوائی اڈے کچھ تاخیر اور منسوخیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
سعودی قیادت میں اتحاد نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ریاض کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے گئے۔ جمعے کو اتحاد کے مطابق مغربی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والا ایک کروز میزائل اور ریاض کے علاقے میں ایک ڈرون بھی روکا گیا۔
سعودی قیادت میں اتحاد مارچ 2015 سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں سرگرم ہے، جبکہ حوثی ستمبر 2014 سے دارالحکومت صنعا پر قابض ہیں۔











