رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 22° / 11°فجر 05:25ظہر 12:16عصر 16:08مغرب 17:45عشا 19:06
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ہانگ کانگ سکسز: پاکستان مین ایونٹ سے باہر، پلیٹ فائنل میں پہنچ گیاآبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا، پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰخیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی ناگزیر تھی: وزیراعظم شہباز شریفعراقچی: امریکی خط مثبت قدم، امریکی حکام سے ملاقات کا ارادہ نہیں؛ ایرانی وفد دوحہ میںقشم جزیرے کے قریب ماہی گیر کشتیوں پر حملہ، دو لاپتا افراد بعد میں مل گئےگلگت بلتستان کے قومی دن پر وزیراعظم کا عوام کو مبارکباد کا پیغامایرانی وزیر خارجہ کی جرمن چانسلر کو انتباہ: ایران پر حملے کی صورت میں یورپ کو بھاری نقصاننیتن یاہو کا ٹرمپ پر ایران کے خلاف مشترکہ حملے کے لیے دباؤ، امریکی انتظامیہ میں اختلافاتبلوچستان کے مسائل کا حل بندوق نہیں، تعلیم اور جمہوری مکالمے میں ہے: سرفراز بگٹیگلگت بلتستان کے عوام کی قربانیاں ہماری مشترکہ تاریخ کا حصہ ہیں: صدر زرداریایف بی آر اکتوبر کا ٹیکس ہدف 156 ارب روپے سے پورا نہ کر سکاوزیراعظم کا دانش سکولوں کی تعمیر میں تیزی اور معیار پر سمجھوتہ نہ کرنے کا حکم

قومی اسمبلی کی قرارداد: کام کی جگہ پر ہراسانی اور صنفی امتیاز کے خلاف تحفظ کی توثیق

قومی اسمبلی کی قرارداد: کام کی جگہ پر ہراسانی اور صنفی امتیاز کے خلاف تحفظ کی توثیق
فائل فوٹو: قومی اسمبلی کی عمارت، اسلام آباد — تصویر: بشکریہ efe.com

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے کام کی جگہ پر ہراسانی اور صنفی بنیاد پر امتیاز کی تمام صورتوں کے خلاف ہر فرد کے وقار، مساوات اور حقوق کے تحفظ کے عزم کی توثیق کرتے ہوئے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔

قرارداد ویمنز پارلیمنٹری کاکس کی سیکرٹری اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے ایوان میں پیش کی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ کام کی جگہ پر ہراسانی صرف جنسی نوعیت کے رویے تک محدود نہیں، بلکہ صنفی امتیاز، دھمکی، تضحیک، تحقیر آمیز سلوک، معاندانہ رویے اور اختیارات کے غلط استعمال کی صورت میں بھی سامنے آ سکتی ہے، خواہ وہ جنسی ہو یا غیر جنسی۔

اس میں خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ کے ایکٹ 2010 کی، جو 2022 میں ترمیم شدہ ہے، قانونی روح کی توثیق کی گئی۔ قرارداد کے مطابق یہ قانون جنسی اور غیر جنسی دونوں طرح کے صنفی امتیاز کو ہراسانی کے دائرے میں تسلیم کرتا ہے۔

قرارداد میں زور دیا گیا کہ جنسی پیش کش یا مطالبے کا نہ ہونا صنفی ہراسانی یا امتیاز کی سنگینی کو کم نہیں کرتا۔ افراد کے وقار کو ہراسانی کی اقسام کے درمیان باریک تفریق کے تابع نہیں کیا جا سکتا، اور قانون کے دائرے میں آنے والے ہر رویے سے یکساں سنجیدگی، انصاف اور جواب دہی کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔

ایوان نے وفاقی حکومت اور تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ موجودہ قانون پر مکمل طور پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، تاکہ کوئی شخص محض اس بنا پر قانونی تحفظ سے محروم نہ رہے کہ رپورٹ کی گئی ہراسانی یا صنفی امتیاز غیر جنسی نوعیت کا ہے۔

قرارداد کے مطابق ہراسانی، تضحیک اور صنفی امتیاز سے پاک کام کی جگہ کوئی استحقاق نہیں بلکہ انسانی وقار، مساوات اور انصاف کا بنیادی تقاضا ہے۔ یہ اقدام ویمنز پارلیمنٹری کاکس کے اس عزم کو بھی تقویت دیتا ہے کہ ملک بھر کے کام کے مقامات ہراسانی، دھمکی، تضحیک اور امتیاز سے پاک ہوں۔