مولانا فضل الرحمان نے گورنر راج کا خود کہا تھا، عابد شیر علی کا دعویٰ

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سینیٹر عابد شیر علی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے صوبہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کا خود حکومت سے کہا اور یہ ان کی اپنی خواہش تھی۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا مسئلہ صوبہ خیبرپختونخوا میں بندر بانٹ ہے اور وہ گورنر راج کے معاملے پر آن بورڈ تھے۔
ایک انٹرویو میں عابد شیر علی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان مذموم سیاسی عزائم ایک طرف رکھیں، ریاست کو گالی نہ دیں اور سیاسی طریقے سے سیاست کریں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مولانا فضل الرحمان نے ریاست کو گالی دی، ہماری ماں کو گالی دی، اور ان کی شہدا کے خلاف تقریر قوم کبھی نہیں بھول سکتی۔ ریاست کو گالی دینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔
عابد شیر علی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے ماضی میں بھی اپنے سیاسی مفادات کے لیے بہت سے فیصلے کیے۔ 2002 کے بعد آئینی ترامیم اور سیاسی اتحادوں کے معاملات میں ان کے کردار پر بھی بحث کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مولانا فضل الرحمان اپنے سیاسی مقاصد کے لیے پرویز مشرف کے ساتھ معاملات طے کرکے اپوزیشن کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار تھے۔ سیاسی رہنماؤں کو اپنے ماضی کے فیصلوں اور موجودہ موقف کی وضاحت بھی دینی چاہیے۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے مستقبل پر انہوں نے کہا کہ اسے پارلیمان کے ایکٹ کے ذریعے توسیع دی گئی ہے، اور حالات درست نہ ہوئے تو پارلیمان مزید توسیع کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے۔
ان کے مطابق گورنر راج کا دورانیہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر منحصر ہوگا۔ حالات بہتر ہوئے تو 6 ماہ سے پہلے بھی معاملات معمول پر لائے جا سکتے ہیں۔ 6 ماہ بعد حالات معمول پر آ جائیں تو جمہوری اصولوں کے مطابق منتخب حکومت کی بحالی پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔
تاہم صوبے میں بدامنی اور حکمرانی کے مسائل برقرار رہے تو صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔
نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے کی تجویز سامنے آئے تو اس پر پارلیمان میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔ قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے ساتھ متعلقہ صوبوں کے عوام اور ووٹرز کی رائے بھی سامنے آنی چاہیے۔ عوامی رائے جاننے کے لیے انتخابات اور ریفرنڈم کے دو طریقے ہیں، تاہم ریفرنڈم سے پہلے عوام میں آگاہی ضروری ہے۔
28ویں آئینی ترمیم کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) میں ابھی کوئی باضابطہ گفتگو نہیں ہوئی۔
انہوں نے موجودہ قومی بحرانوں کے تناظر میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ سیاسی اختلافات کے بجائے قومی مسائل پر بات چیت ہونی چاہیے۔
عابد شیر علی نے بتایا کہ ایک ماہ قبل نواز شریف سے ملاقات ہوئی تھی۔ ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ملک کے معاملات کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔ حکومتی ذمہ داریاں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے پاس ہیں، لیکن پارٹی معاملات میں نواز شریف سے مشاورت ہوتی ہے۔











