ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت جاری، تعلیم اور نوجوانوں کے لیے بڑے اقدامات

تربت: صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنے اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومت مختلف شعبوں میں جامع اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق تعلیم، صحت، زراعت، انفراسٹرکچر اور نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اور متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔
میر ظہور احمد بلیدی نے تربت پریس کلب کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام گند و نند سے خطاب میں بتایا کہ صوبے کے تعلیمی نظام کو مستحکم بنانے کے لیے ساڑھے 14 ہزار اساتذہ بھرتی کیے گئے ہیں۔ اسکولوں میں تدریسی معیار بہتر بنانے کے لیے کیمسٹری، فزکس، بائیولوجی اور انگریزی کے سبجیکٹ اسپیشلسٹ تعینات کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں اصلاحات اور طبی سہولیات کی بہتری کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
نوجوانوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 16 ارب روپے کی لاگت سے یوتھ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نوجوانوں کو کاروبار کے لیے قرضے، فنی مہارتیں اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ منصوبے کے تحت 30 ہزار نوجوانوں کو فنی تربیت دے کر بیرون ملک روزگار کے لیے بھیجنے کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، سڑکوں کی تعمیر اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مختلف اسکیموں پر کام ہو رہا ہے۔
صوبائی وزیر نے ضلع کیچ میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقہ انتخاب میں کئی اہم منصوبے تکمیل کے قریب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تربت میں گرین بس سروس کا آغاز اسی سلسلے کی اہم پیش رفت ہے، جس سے شہریوں، بالخصوص کم آمدنی اور متوسط طبقے کو سفری سہولت ملی ہے۔ مزید برآں کیچ میں کیتھ لیب کے قیام کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے ماڈل ولیج کا منصوبہ بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
اپنے خطاب میں میر ظہور احمد بلیدی نے بعض قوم پرست جماعتوں کے سیاسی مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بلوچستان کے کئی اہم ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں منفی مہم چلائی جاتی رہی ہے۔ ان کے مطابق ان منصوبوں میں حب انڈسٹریل زون، سی پیک، گوادر پورٹ، گیشکور ڈیم اور ساؤتھ بلوچستان پیکیج شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبے صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور عوام کے لیے ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پروگرام کے دوران تربت پریس کلب کے صدر حافظ صلاح الدین سلفی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے پریس کلب کے لیے 20 لاکھ روپے کی ریگولر گرانٹ کی منظوری اور اجرا میں تعاون پر صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پریس کلب کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر سالانہ ریگولر گرانٹ بڑھا کر 50 لاکھ روپے کی جائے، اور صحافیوں کے لیے جرنلسٹس ہاؤسنگ اسکیم کی منظوری اور عملی پیش رفت میں بھی کردار ادا کیا جائے۔











