رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 10° صاف 22° / 10°فجر 05:29ظہر 12:16عصر 16:04مغرب 17:40عشا 19:02
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
15 نومبر کو کوئٹہ میں بدامنی اور مہنگائی کے خلاف جلسہ عام ہوگاپاکستان اسکواش ٹیم ایشین چیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچ گئینوجوان طالبات جدید تعلیم اور ڈیجیٹل مہارتوں پر توجہ دیں: ہدایت الرحمن بلوچشہریار ملک میموریل ٹینس: غضنفر اور عمران طاہر سینئرز ڈبلز کے فاتحرکھنی ڈویلپمنٹ پیکج اور 50 بستروں کے ہسپتال پر اجلاس، کمشنر کی ہدایاتقدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سپارکو کا پانچ روزہ تربیتی کورس مکملترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت جاری، تعلیم اور نوجوانوں کے لیے بڑے اقداماتایل پی جی مہنگی، گیس لوڈشیڈنگ؛ سجاد نذیر کا حکومت پر تنقیدسمندر میں تیل و گیس کی تلاش؛ 20 سال بعد بحالی کا آغازحافظ عبدالکریم کی آل پاکستان اہلحدیث کانفرنس کی تیاریوں کا جائزہپاکستان میں 20 سال بعد سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کی بحالیچیئرمین سینیٹ کی روایتی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے پر زور

گورنر بلوچستان کا نوجوانوں کیلئے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تربیت پر زور

گورنر بلوچستان کا نوجوانوں کیلئے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تربیت پر زور
فائل فوٹو — تصویر: بشکریہ thefridaytimes.com

کوئٹہ (اعتماد نیوز) گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے رواں سال 2026 کے دوران پاکستان، خصوصاً بلوچستان میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل لٹریسی اور نوجوانوں کی عملی آئی ٹی تربیت کے فروغ کو اپنے فکری اور عملی ایجنڈے کا اہم حصہ بنائے رکھا۔

ذرائع ابلاغ کے مختلف فورمز پر بیانات، علمی و تعلیمی تقریبات میں خطابات، قومی و بین الاقوامی شخصیات سے ملاقاتوں اور سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ رابطوں میں گورنر نے مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ای کامرس، آن لائن کاروبار اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم و تربیت پر مسلسل زور دیا۔ ان کی اس توجہ کے نتیجے میں یہ جدید علوم بلوچستان کے تعلیمی و ترقیاتی مباحث کا اہم موضوع بن گئے ہیں۔

گورنر مندوخیل اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ صوبے کے ہزاروں نوجوان بے روزگاری جیسے سنگین معاشی مسئلے سے دوچار ہیں۔ ان کے نزدیک اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے محض روایتی سرکاری ملازمتوں یا محدود مواقع پر انحصار کافی نہیں، بلکہ نوجوانوں کو بدلتی ہوئی عالمی معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل لٹریسی، جدید طبی و پیشہ ورانہ کورسز، ای کامرس اور آن لائن بزنس کی عملی تربیت سے نوجوان ملکی و بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا سکتے ہیں اور دوسروں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

اسی وژن کے تحت انہوں نے تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیز پر زور دیا کہ وہ روایتی نصاب سے آگے بڑھ کر جدید ٹیکنالوجی اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیمی پروگرام متعارف کرائیں۔ ان کے مطابق اعلیٰ تعلیم کا مقصد صرف ڈگریوں کا حصول نہیں بلکہ علم کو عملی مہارت، تحقیق کو پیداواری صلاحیت اور تعلیم کو معاشی خودمختاری میں بدلنا ہے۔ گورنر نے وائس چانسلرز سے کہا کہ کتابی علم اور عملی زندگی کے درمیان خلیج کم کی جائے۔

گورنر کے مطابق ڈیجیٹل معیشت جغرافیائی حدود کی پابند نہیں۔ بلوچستان کا نوجوان اپنے شہر یا گاؤں میں رہتے ہوئے آن لائن کاروبار، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کے ذریعے قومی و عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ سال 2026 میں گورنر بلوچستان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے فورم پر پاکستان اور بلوچستان کے نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کی صلاحیتوں، درپیش چیلنجز اور روشن مستقبل کے امکانات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا۔

گورنر کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ نوجوانوں کو محض ڈگریاں نہیں بلکہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ علم، جدید ٹیکنالوجی اور عملی مہارتیں فراہم کی جائیں۔ ان کے نزدیک سرکاری یونیورسٹیوں، نجی تعلیمی اداروں، ٹیکنالوجی کے شعبے اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان مؤثر اشتراک اس مقصد کے لیے ناگزیر ہے۔

اشتہار