مدینہ منورہ پر حوثی حملے کی علما کونسل کی شدید مذمت

اسلام آباد۔ چیئرمین پاکستان علما کونسل و سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے مدینہ منورہ پر حوثی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مملکت سعودی عرب پر کسی بھی صورت میں حملے قابل قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بیان جاری کیا، جس میں حملے کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔
اپنے بیان میں حافظ طاہر اشرفی نے جمعرات کی شام کے وقت کو خاص طور پر اہم قرار دیا، جب مسلمان روضہ اطہر اور مسجد نبوی میں حاضری کے لیے جوق در جوق آ رہے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے وقت میں کیا گیا حملہ واضح کرتا ہے کہ حوثی دہشت گردوں کا اصل مقصد مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور زائرین بیت اللہ الحرام و مسجد نبوی شریف ہیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مقدس ترین شہر ہیں، اس لیے ان پر کسی بھی حملے کو امت مسلمہ کے جذبات پر حملہ سمجھا جاتا ہے۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے اسلامی تعاون تنظیم، اقوام متحدہ اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر فوری کارروائی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر مزید خاموشی جرم ہوگی۔ بیان میں حملے کی مزید تفصیلات، نقصانات یا اس کی ذمہ داری کے بارے میں کوئی اضافی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کل جمعہ کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں خطبات جمعہ کے دوران ان حملوں کی مذمت کی جائے گی۔ اس موقع پر مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، یمن اور سعودی عرب کی عوام و قیادت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا جائے گا۔
علما کونسل کی جانب سے یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کی صورتحال پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔ حافظ طاہر اشرفی کے بیان کا مقصد مسلمانوں میں اتحاد اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے یکجا آواز بلند کرنا بتایا گیا ہے۔











