رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 10° صاف 22° / 10°فجر 05:29ظہر 12:16عصر 16:04مغرب 17:40عشا 19:02
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
15 نومبر کو کوئٹہ میں بدامنی اور مہنگائی کے خلاف جلسہ عام ہوگاپاکستان اسکواش ٹیم ایشین چیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچ گئینوجوان طالبات جدید تعلیم اور ڈیجیٹل مہارتوں پر توجہ دیں: ہدایت الرحمن بلوچشہریار ملک میموریل ٹینس: غضنفر اور عمران طاہر سینئرز ڈبلز کے فاتحرکھنی ڈویلپمنٹ پیکج اور 50 بستروں کے ہسپتال پر اجلاس، کمشنر کی ہدایاتقدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سپارکو کا پانچ روزہ تربیتی کورس مکملترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت جاری، تعلیم اور نوجوانوں کے لیے بڑے اقداماتایل پی جی مہنگی، گیس لوڈشیڈنگ؛ سجاد نذیر کا حکومت پر تنقیدسمندر میں تیل و گیس کی تلاش؛ 20 سال بعد بحالی کا آغازحافظ عبدالکریم کی آل پاکستان اہلحدیث کانفرنس کی تیاریوں کا جائزہپاکستان میں 20 سال بعد سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کی بحالیچیئرمین سینیٹ کی روایتی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے پر زور

کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس، 19 نومبر کو صوبہ گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس، 19 نومبر کو صوبہ گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان
فائل فوٹو — تصویر: بشکریہ bexpress.com.pk

کوئٹہ (آن لائن) عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب میں صوبے کی سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کی۔ اجلاس میں صوبے کی اہم سیاسی جماعتوں اور تاجر تنظیموں کے مرکزی و صوبائی رہنما اپنے وفود کے ہمراہ شریک ہوئے۔

شرکا میں نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل اور سابق سینیٹر کبیر محمد شہی، جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی سینئر نائب امیر مولوی کمال الدین، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی لیبر سیکرٹری موسی بلوچ، جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے امیر مولانا قادر لونی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل احمد کوہزاد، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی جنرل سیکرٹری انجینئر ایمل خان ناصر، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عبدالحکیم ایڈووکیٹ، جماعت اسلامی کے سیکرٹری عبدالحمید منصوری اور مرکزی انجمن تاجران کے رہنما رحیم کاکڑ شامل تھے۔

کانفرنس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں صوبے کی مجموعی صورتحال کو انتہائی سنگین اور ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق دہشت گردی، انتہاپسندی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، شاہراہوں پر عدم تحفظ، قومی وسائل کی لوٹ مار، لاپتہ افراد اور بے روزگاری نے صوبے کے مستقبل کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ افغانستان اور ایران کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش سے صوبے کی معیشت متاثر ہونے کا بھی ذکر کیا گیا، جبکہ مہنگائی، لوڈشیڈنگ، پٹرولیم لیوی، یوریا کھاد اور ڈائنامائٹ کی بندش پر تشویش ظاہر کی گئی۔

اعلامیے میں حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ جان و مال کے تحفظ، امن و امان اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی میں ناکامی محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ سنجیدہ سیاسی بحران کی عکاس ہے۔ کانفرنس میں اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور دیگر قومی رہنماؤں کے خلاف ہرزہ سرائی، کردار کشی اور میڈیا ٹرائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں 19 نومبر، بروز جمعرات، صوبہ بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا گیا، جبکہ اسی روز تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں پریس کلبوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔ 26 نومبر کو جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی دفتر میں آل پارٹیز صوبائی سربراہی اجلاس ہوگا، جبکہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں مرکزی قیادت پر مشتمل آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی۔

شرکا نے کوآرڈینیشن کمیٹی بھی تشکیل دی، جس میں مولانا کمال الدین، موسی بلوچ، مابت کاکا، علی احمد لانگو، زاہد اختر بلوچ، ندا سنگر، ڈاکٹر سخی، عنایت شاہ ایڈووکیٹ، قاری مہر اللہ، زین العابدین اور رحیم کاکڑ شامل ہیں۔ اعلامیے میں عزم ظاہر کیا گیا کہ امن و امان، قومی وسائل کے تحفظ اور بنیادی جمہوری حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

اشتہار