سپریم کورٹ نے ضمانت منسوخ کرنے کے آٹھ اصول طے کر دیے، سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے کسی ملزم کی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے آٹھ اصول طے کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا۔ عدالت نے اسی فیصلے میں سندھ ہائیکورٹ کا وہ حکم بھی برقرار رکھا جس کے تحت ایک ملزم کی ضمانت منظور کی گئی تھی۔ یوں ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد ہو گئی۔
فیصلے کے مطابق اگر ضمانت دینے کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی ہو یا ناانصافی پر مبنی ہو تو ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر ملزم ضمانت کی رعایت کا ناجائز استعمال کرے تو بھی یہ رعایت واپس لی جائے گی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزم اگر استغاثہ کے گواہوں پر دباؤ ڈال کر شواہد کو متاثر کرنے یا ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے تو ضمانت برقرار نہیں رہے گی۔
سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ اگر اس بات کا امکان ہو کہ ملزم عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر فرار ہو جائے گا تو ضمانت منسوخ ہو گی۔ تفتیش کے شفاف عمل میں مداخلت کی کوشش بھی منسوخی کی وجہ بنے گی۔ اگر ملزم آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسی نوعیت کا کوئی دوسرا جرم کرے، یا دوران تفتیش ایسے نئے حقائق اور شواہد سامنے آئیں جو اس کے جرم میں ملوث ہونے کی نشاندہی کریں، تو ان صورتوں میں بھی ضمانت منسوخ کی جائے گی۔
مقدمہ لاڑکانہ کے رحمت پور تھانے میں درج ہوا تھا۔ اس کے مطابق واقعہ 3 مارچ 2024 کو پیش آیا۔ ڈسپوزل فیز سے اسپیشل لائن کھینچ کر دکانوں کو بجلی فراہم کی جا رہی تھی کہ اس دوران تار ٹوٹ گیا اور نور حسین نامی شخص جاں بحق ہو گیا۔ ملزم علی اصغر کھوکھر کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست سیشن جج لاڑکانہ نے 30 جنوری 2025 کو مسترد کر دی تھی۔ بعد ازاں سندھ ہائیکورٹ کے لاڑکانہ سرکٹ کورٹ نے 20 اکتوبر 2025 کو ایف آئی آر میں نو ماہ کی تاخیر اور دیگر بنیادوں پر ملزم کی ضمانت منظور کر لی۔ اس حکم کے خلاف ضمانت منسوخ کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایف آئی آر میں نو ماہ کی تاخیر اور ملزم کا کردار مزید تحقیق کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جاتا ہے۔ عدالت نے فیصلے کی نقل معلومات کے لیے چیئرمین واپڈا کو بھجوانے کی ہدایت بھی کی۔ اس کے ساتھ کہا گیا کہ بجلی کی غیر قانونی فراہمی، چوری اور پرائیویٹ سائفننگ میں ملوث افراد کے کردار کا واپڈا اور متعلقہ یوٹیلیٹی کمپنی جائزہ لے۔











