اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کا ٹیلی فونک رابطہ، سفارتی مذاکرات پر زور

اسلام آباد (آن لائن) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس کے دوران خطے کی مجموعی صورتحال اور تازہ علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ رابطہ 5 نومبر 2026 کو ہوا، جس کی تفصیلات دفتر خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی مسائل کے حل، کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن و استحکام کے قیام کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ گفتگو میں خطے کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر غور کیا گیا کہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے کیسے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کو درپیش چیلنجز اور مسائل کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو بروئے کار لانا اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ تعمیری انداز میں سفارتی عمل سے جڑے رہیں اور مسائل کے حل کے لیے باہمی مشاورت کا راستہ اختیار کریں۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے مسلسل اور مؤثر سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے فعال اور مسلسل سفارتی روابط برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ موجودہ صورتحال میں خطے کے ممالک ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کریں اور اختلافات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دیں۔
گفتگو کے دوران اسحاق ڈار اور عباس عراقچی نے علاقائی پیش رفت اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت پر اتفاق کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان علاقائی مسائل کے پرامن حل، مذاکرات کے تسلسل اور سفارتی روابط کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کو اہمیت دیتا ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان یہ رابطہ پاکستان اور ایران کے مابین علاقائی معاملات پر سفارتی مشاورت اور رابطوں کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔











