رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 13° صاف 22° / 11°فجر 05:28ظہر 12:16عصر 16:04مغرب 17:41عشا 19:03
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
لوئر چترال پولیس کی منشیات کے خلاف کمیونٹی مہم کے حوصلہ افزا نتائجاے این پی کا صوبائی اجلاس، امن و امان پر تشویش اور جلسے کی تیاریوں کا جائزہشانگلہ میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، کاروبار اور معمولات زندگی مفلوجبیکن ہاس کینال سائیڈ میں جونیئر بچوں کا سپورٹس گالا منعقدآر پی او ملاکنڈ زاہد نواز مروت کا شانگلہ کا دورہ، شجرکاری اور ترقیاتی کاموں کا معائنہپاکستان، سری لنکا پہلے ٹیسٹ کے ٹکٹ جمعہ سے فروخت ہوں گےمدینہ منورہ پر حوثی حملے کی علما کونسل کی شدید مذمتاکتوبر میں 5 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹر، کل تعداد 3 لاکھ 21 ہزار سے تجاوزکشمیر چوک انڈر پاس 27 دن میں مکمل، وزیراعظم کی تقریب سے خطابقومی کرکٹرز کو افغانستان پریمئر لیگ کے لیے این او سی نہیںبھارتی سموگ پاکستان سمیت خطے کی فضا کو زہر آلود کرنے لگیآر پی او زاہد نواز مروت کا شانگلہ میں امن و امان پر زور

امریکی تاریخ میں پہلی بار ایوانِ نمائندگان میں سو سے زائد ڈیموکریٹ خواتین کی کامیابی

امریکی تاریخ میں پہلی بار ایوانِ نمائندگان میں سو سے زائد ڈیموکریٹ خواتین کی کامیابی
فائل فوٹو — تصویر: بشکریہ ignitenational.org

واشنگٹن: انتخابی نتائج کے مطابق امریکی تاریخ میں پہلی بار سو سے زائد ڈیموکریٹ خواتین ایک ساتھ ایوانِ نمائندگان کی رکن بننے جا رہی ہیں۔ اس پیش رفت کو امریکی سیاست میں خواتین کی نمائندگی کے لحاظ سے غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

نیو میکسیکو سے رکنِ کانگریس اور ڈیموکریٹک ویمنز کاکس کی سربراہ ٹریسا لیگر فرنانڈیز نے اپنے بیان میں کہا کہ خواتین نے اپنے ووٹ کی طاقت سے تاریخ رقم کی ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور ری پبلکنز کے انتہا پسندانہ ایجنڈے کے اثرات سب سے زیادہ خواتین پر پڑے، اور حالیہ انتخابات میں انہوں نے ووٹ کے ذریعے واضح کر دیا کہ وہ موجودہ صورتِ حال سے مطمئن نہیں۔

کاکس کے انتخابی ونگ الیکٹ ڈیموکریٹک ویمن نے مہم کے آغاز ہی سے سو خواتین کی کامیابی کو ہدف بنایا تھا۔ فلوریڈا سے رکنِ کانگریس اور تنظیم کی بانی رکن لوئس فرینکل نے اسے اہم علامتی کامیابی قرار دیا، تاہم کہا کہ جماعت اس سے بھی زیادہ خواتین کو منتخب کرانا چاہتی ہے۔ ایملی لسٹ سمیت کئی تنظیموں نے امیدواروں کی تیاری، فنڈز جمع کرنے اور انتخابی مہمات میں مدد دی۔ ایملی لسٹ کی صدر جیسیکا میکلر کے مطابق یہ نتیجہ ثابت کرتا ہے کہ مواقع اور وسائل ملنے پر خواتین کامیاب مہم چلا سکتی ہیں۔

ڈیموکریٹس کو حالیہ انتخابات میں جو 40 نشستیں ملیں، ان میں سے 18 پر خواتین جیتیں۔ ان کامیابیوں میں مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں اور بدعنوانی کے تاثر پر ووٹروں کی ناراضی نے بھی کردار ادا کیا۔ بعض خواتین نے اپنی ہی جماعت کے موجودہ ارکان کو شکست دی، جن میں جارجیا کی جیسمین کلارک، کولوراڈو کی میلات کیروس اور نیویارک کی داریا لیزا اویلا شیوالیے شامل ہیں۔

جیسمین کلارک کانگریس کی پہلی سیاہ فام خاتون پی ایچ ڈی سائنس دان ہوں گی۔ میلات کیروس کولوراڈو کی نمائندگی کرنے والی پہلی سیاہ فام خاتون اور کانگریس کی پہلی جنریشن زی خاتون رکن بنیں گی۔

خواتین امریکی آبادی کا تقریباً نصف ہیں، مگر کانگریس میں ان کی نمائندگی اب بھی صرف 28 فیصد ہے۔ جینیٹ رینکن 1917 میں کانگریس کی پہلی خاتون رکن منتخب ہوئی تھیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ کامیابی خواتین کے بڑھتے کردار کی عکاس ہے اور مستقبل میں اعلیٰ سیاسی قیادت میں ان کی نمائندگی بڑھنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

اشتہار