رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 14° صاف 23° / 10°فجر 05:29ظہر 12:16عصر 16:03مغرب 17:40عشا 19:02
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی صدارت میں امراض قلب ادارے کے بورڈ کا پہلا اجلاسایف پی ایس سی کا گریڈ 16 سے 20 تک مختلف وفاقی محکموں میں بھرتیوں کا اعلانغزہ میں سردیوں کی پہلی بارش، 70 ہزار خیمے زیرِ آب، ابتدائی نقصان تقریباً 3 ملین ڈالرعثمان خواجہ کا دعویٰ: 2018 کے بال ٹیمپرنگ سے پوری ٹیم واقف تھی، لیہمن کا ردعملٹرمپ کی ڈیموکریٹس کو امیگریشن اور ٹیکس پر بات چیت کی پیشکشسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز: پاکستانی اسکواڈ میں چار کھلاڑیوں کا اضافہ، تین کی پہلی طلبیپولینڈ کے شہر کراکوف کے مرکزی چوک میں کار سوار شخص کی فائرنگ، چھ افراد ہلاک، 15 زخمیانڈر 19 ایشیا کپ: پاکستان اور بھارت کا میچ اتوار کو العامرات میںہیگسیتھ اور روبیو کے استعفے کی خبریں مسترد، وائٹ ہاؤس کی تردیدرنبیر کپور کا اعلان: اگلے دو تین برس میں ہدایت کاری کا آغاز کروں گااین اے 77 ضمنی انتخاب: الیکشن کمیشن کا عطا اللہ تارڑ اور راشد بشیر وڑائچ کو نوٹسوویک اوبرائے کا انکشاف: متنازع دور میں فلمیں چھنیں، انڈر ورلڈ کی دھمکیوں کا دعویٰ

ژوب میں مشاورتی جرگہ، جنوبی پشتونخوا کے مسائل پر اتحاد کا اعلان

ژوب میں مشاورتی جرگہ، جنوبی پشتونخوا کے مسائل پر اتحاد کا اعلان
فائل فوٹو — تصویر: بشکریہ newsintervention.com

ژوب (آئی این پی) جنوبی پشتونخوا کوئٹہ کے سہ روزہ پشتون قوم و عوام جرگے کے تسلسل میں ضلع ژوب میں مشاورتی جرگہ منعقد ہوا۔ جرگے کی صدارت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے کی۔ جرگے نے اپنا کارہندہ جرگہ منتخب کیا اور ضلع ژوب کی ایگزیکٹو کونسل کے تقررات کے لیے تمام تر اختیار نواب ایاز خان جوگیزئی کو سونپ دیا۔ جرگے میں ژوب کے سینکڑوں قبائلی و سیاسی عمائدین، علمائے کرام اور زندگی کے مختلف شعبوں کے سرکردہ نمائندوں نے شرکت کی۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے نواب محمد ایاز خان جوگیزئی، مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال اور صوبائی جنرل سیکرٹری کبیر افغان نے کہا کہ پشتون عوام کو درپیش مسائل سے نجات اتحاد و اتفاق سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے بیروزگاری، مہنگائی اور جان و مال کے تحفظ جیسے مسائل کی نشاندہی کی۔ مقررین کے مطابق صوبے کی شاہراہوں پر امن و امان کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے، جن میں کوئٹہ ڈیرہ اسماعیل خان، کوئٹہ کراچی، کوئٹہ سکھر، کوئٹہ تفتان اور کوئٹہ ڈیرہ غازی خان کے راستے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیورنڈ لائن پر تجارت بند ہونے سے عوام فاقوں پر مجبور ہیں، جبکہ پشتون نوجوانوں کو اپنے ہی وطن میں مزدوری پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

مقررین نے فارم 47 کی حکومتوں پر زمینوں پر قبضے کے لیے قراردادیں پاس کرانے کا الزام لگایا اور کہا کہ یہ کوشش کسی صورت قبول نہیں۔ انہوں نے عدلیہ و میڈیا کی آزادی پامال کرنے، سویلین اتھارٹی ختم کرنے اور انتظامی اداروں کو مفلوج کرنے کا بھی ذکر کیا۔ بجلی، گیس، پینے کے صاف پانی، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کی کمی اور پانی کی گرتی ہوئی سطح پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ مقررین کے مطابق پشتون اضلاع کے پولیس تھانے خالی کرائے جا رہے ہیں اور پشتون وطن کے معدنی خزانوں پر قبضے کی تیاری ہو رہی ہے۔

جرگے میں اعلان کیا گیا کہ تمام اضلاع میں مشاورتی جرگوں کے بعد جنوبی پشتونخوا کی سطح پر ایک منظم مستقل جرگہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو صوبائی و مرکزی حکومت سے مطالبات منوانے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ کمیٹی آپس کی رنجشوں کے خاتمے کے لیے روایتی جرگے کے ذریعے فیصلے بھی صادر کرے گی۔ جرگے میں ژوب سے اغوا کیے گئے عطااللہ کبزئی، مالک ناصر اور دیگر مغویان کی جلد بحفاظت بازیابی کا سخت مطالبہ کیا گیا۔

جرگے کا آغاز مولوی نصیب اللہ کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جبکہ علامہ نسیم نے اختتامی دعا کرائی۔ جرگے میں مرکزی سیکرٹری عبدالحق ابدال اور پشین ضلع کے ڈپٹی چیئرمین منظور خان اچکزئی نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے کامیاب جرگے کے انعقاد پر منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔

اشتہار