وویک اوبرائے کا انکشاف: متنازع دور میں فلمیں چھنیں، انڈر ورلڈ کی دھمکیوں کا دعویٰ

ممبئی: بالی ووڈ اداکار وویک اوبرائے نے کہا ہے کہ ابتدائی 2000 کی دہائی میں فلم انڈسٹری کے ایک طاقتور حلقے نے انہیں تنہا کر دیا تھا اور وہ دور ان کے لیے حقیقی جہنم جیسا تھا۔ انہوں نے یہ بات ریلرن کے انٹرویو میں کہی۔
وویک کے مطابق انہوں نے ایک ایسی بات پر آواز اٹھائی جسے وہ غلط سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی سوچ یہ تھی کہ ایک حد ہے جسے پار نہیں کیا جانا چاہیے اور خواتین کا احترام لازم ہے۔ اس کے بعد انہیں بہت ہراساں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ کمپنی اور ساتھیا جیسی کامیاب فلموں اور ایوارڈز کے باوجود ایک طاقتور لابی نے انہیں ناپسندیدہ شخص بنا دیا۔ ان کے بقول جو فلمیں وہ سائن کر چکے تھے، ان سے بھی لوگ پیچھے ہٹنے لگے۔
اداکار نے دعویٰ کیا کہ جو فلم ساز ابتدا میں اصولی بنیاد پر ان کے ساتھ کھڑے رہے، وہ کچھ ہفتوں بعد یہ کہہ کر معذرت کرنے لگے کہ انہیں انڈر ورلڈ سے فون آئے ہیں کہ اس شخص کے ساتھ فلم بنائی تو انجام برا ہوگا۔ وویک نے کسی کا نام نہیں لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کام نہ ملنے کی وجہ ان کی صلاحیت، کارکردگی یا محنت نہیں تھی بلکہ ایسے حالات تھے جن پر ان کا اختیار نہیں تھا۔
وویک اوبرائے اس سال نتیش تیواری کی فلم رامائن: پارٹ ون میں ودیوت جِوا کے کردار میں نظر آئے۔ وہ سندیپ ریڈی وانگا کی آئندہ فلم اسپرٹ کی کاسٹ میں بھی شامل ہیں، جس میں پربھاس اور ترپتی ڈمری مرکزی کردار میں ہیں۔











