امریکا میں وسط مدتی انتخابات: کانگریس کا کنٹرول داؤ پر، پہلے نتائج بدھ کی صبح متوقع

واشنگٹن: امریکا میں منگل 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہو رہے ہیں، جن سے طے ہوگا کہ کانگریس کا کنٹرول کس جماعت کے پاس رہے گا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ مدت کے آخری دو سال کیسے گزریں گے۔
ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینیٹ کی 35 نشستوں اور 36 گورنروں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس کے ساتھ متعدد ریاستی اور مقامی انتخابات بھی ہوں گے۔ لاکھوں امریکی شہری قبل از وقت پولنگ اور ڈاک کے ذریعے پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں۔
اس وقت دونوں ایوانوں میں ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔ ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کے لیے 218 نشستیں حاصل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ سینیٹ میں انہیں خالص چار نشستوں کا اضافہ درکار ہے۔ ٹیکساس، اوہائیو، مین، مشی گن، جارجیا اور الاسکا کے سینیٹ مقابلے خاص توجہ کا مرکز ہیں۔
صدر ٹرمپ خود بیلٹ پر نہیں ہیں، تاہم نتائج سے واضح ہوگا کہ ریپبلکنز کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتے ہیں یا ڈیموکریٹس انتظامیہ کے قانون سازی کے ایجنڈے کو چیلنج کرنے اور نگرانی بڑھانے کی طاقت حاصل کرتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے وقت کے مطابق ورمونٹ میں پولنگ اسٹیشن سب سے پہلے منگل کو دوپہر دو بجے کھل سکتے ہیں۔ انڈیانا اور کینٹکی کے کچھ حصوں میں بدھ کی صبح تین بجے پولنگ ختم ہوگی اور پہلے نتائج اور اندازے اسی کے بعد آنا شروع ہو سکتے ہیں۔ الاسکا کے جزائر الیوشین میں آخری پولنگ اسٹیشن تقریباً صبح دس بجے بند ہوں گے۔
ملک بھر کے لیے نتائج کے اعلان کا کوئی مقررہ وقت نہیں۔ سخت مقابلوں، ڈاک کے بیلٹ، دوبارہ گنتی اور ریاستوں کے مختلف طریقۂ کار کے باعث حتمی نتائج میں دن یا ہفتے بھی لگ سکتے ہیں۔ میڈیا ادارے سرکاری تصدیق سے پہلے بھی کامیاب امیدواروں کا اندازہ پیش کر سکتے ہیں۔











