بلاول بھٹو کا قومی اسمبلی میں 27ویں ترمیم، صوبائی حقوق اور دہشت گردی پر خطاب

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعرات کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے اور وزیرِ داخلہ ایوان میں آ کر اسے بریف کریں۔
انہوں نے اپوزیشن سے درخواست کی کہ اس کے پاس جو طاقت ہے، وہ استعمال کرنا شروع کرے۔ ان کے مطابق اپوزیشن کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فنانس کمیٹی میں نہ بیٹھنے سے پارلیمان کے کردار میں کمزوری آئی، اور پارلیمان طاقتور ہے تو ہم سب طاقتور ہیں۔
بلاول نے کہا کہ چاہے کوئی حکومتی بنچوں پر بیٹھا ہو یا اپوزیشن بنچوں پر، پورے ایوان اور قوم کو سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوج، سیاستدانوں، سول سوسائٹی اور عوام نے ماضی میں بھی دہشت گردوں کو شکست دی ہے، اور وہ کارنامہ انجام دیا جو نیٹو فورسز سمیت پوری دنیا افغانستان میں نہ کر سکی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سرخرو ہوگا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی اور پوری جماعت کی کوشش ہمیشہ قانون سازی میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے پر مرکوز رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1973 کا آئین اور 18ویں ترمیم اتفاقِ رائے سے منظور ہوئی تھی، اور یہی جذبہ 26ویں ترمیم کی منظوری کے دوران بھی دکھایا گیا، جو طویل اور انتھک کوششوں کے بعد ممکن ہوئی۔
ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا تھا، جنہوں نے آگے چل کر پی ٹی آئی اور ایس آئی سی کو بھی اس عمل میں شامل کیا۔ بلاول نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ہی نہیں بلکہ پی ٹی آئی بھی آئینی مشاورت کے عمل کا حصہ تھی، چاہے اس نے ووٹ نہ دیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کی رضامندی سے 26ویں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
آرٹیکل 243 اور 27ویں ترمیم
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ 27ویں ترمیم دراصل چارٹر آف ڈیموکریسی میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل کی ایک کوشش ہے، جن میں ایک آئینی عدالت کے قیام کا وعدہ بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق بھارت پر پاکستان کی تاریخی فتح کے بعد یہ ترمیم آرٹیکل 243 کے تحت فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی اداروں سے متعلق آئین میں کچھ تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ کسی بھی قانون یا ترمیم کی اصل طاقت اس اکثریت میں نہیں ہوتی جو اسے منظور کرتی ہے، بلکہ اس سیاسی اتفاقِ رائے میں ہوتی ہے جو اس کے پیچھے ہوتا ہے۔ ان کے بقول 1973 کا آئین آج بھی غیر متنازع اور متفقہ آئین ہے، کیونکہ اسے قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں تمام سیاسی جماعتوں نے منظور کیا تھا، اور اس اتفاقِ رائے کو کوئی آمر یا جابر سیاست دان ختم نہیں کر سکتا۔
بلاول نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ایک آمر کو شکست دے کر حکومت سنبھالی تو انہوں نے 18ویں ترمیم منظور کی، جس نے بنیادی جمہوری اصلاحات متعارف کرائیں اور صوبائی خودمختاری کو یقینی بنایا۔ ان کے مطابق 18ویں ترمیم کو ختم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر قائم ہوئی، اور اس پر صرف پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ ہی نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط ہیں۔
چیئرمین بلاول نے بتایا کہ حکومت نے ان سے مجوزہ ترمیم کے حوالے سے رابطہ کیا تھا۔ ان کے مطابق اگر ترمیم دفاعی ڈھانچے سے متعلق ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حکومت نے متعلقہ اداروں سے مشاورت کی ہے، اور اگر یہ عدالتی اصلاحات سے متعلق ہے تو حکومت نے ججوں اور وکلا سے مشاورت کی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ان سے بطور چیئرمین پیپلز پارٹی رابطہ کیا گیا اور انہوں نے یہ معاملہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے سامنے رکھا۔ طویل غور و فکر کے بعد فیصلہ ہوا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کے وژن کی تکمیل کے لیے حکومت کا ساتھ دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جب چھ بھارتی طیارے گرائے گئے تو فیلڈ مارشل اور پاکستان کی مسلح افواج کو دنیا بھر میں نریندر مودی کی حکومت کو تاریخی شکست دینے پر سراہا گیا۔ ان کے مطابق بھارت نے دوسری سرحد پر افغانستان کے وزیرِ خارجہ کی میزبانی کی ہے، اسی تناظر میں پیپلز پارٹی نے آرٹیکل 243 سے متعلق حکومتی سفارشات کی حمایت کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اس کے بجائے اپنے قید رہنما کے لیے شور مچانے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی، لیکن کمیٹیوں میں شرکت اور تجاویز دینے کی ذمہ داری اپوزیشن پر بھی عائد ہوتی ہے، جو اس نے ادا نہیں کی۔
صوبائی حقوق اور عدلیہ
بلاول نے کہا کہ آئینی عدالتوں کے قیام کے ساتھ پیپلز پارٹی حکومت کی اس بات کی تعریف کرتی ہے کہ اس نے تمام صوبوں کو نئی عدالتوں میں مساوی نمائندگی دینے کا مطالبہ قبول کیا۔ ان کے مطابق وفاق تبھی مضبوط ہوگا جب تمام صوبوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جو سیاسی قوتیں 27ویں ترمیم کی مخالفت کر رہی ہیں، انہیں تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ ایک تاریخی سنگِ میل ہے، کیونکہ پہلی بار ہر صوبے کو آئینی عدالتوں میں برابر کی نمائندگی دی جا رہی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جب قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی قتل کا نشانہ بنایا گیا تھا تو اس وقت کے عدالتی بینچ میں صوبوں کی مساوی نمائندگی نہیں تھی۔ ان کے بقول ہم آج بھی اس ناانصافی کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ جو لوگ صوبائی مساوات کی بات کرتے ہیں، چاہے وہ اچکزئی صاحب ہوں یا کوئی اور، انہیں اس تاریخی پیش رفت کو سراہنا چاہیے جو تمام صوبوں کے درمیان حقیقی مساوات کو یقینی بناتی ہے۔
بلاول نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور کے بعد تمام سیاسی جماعتیں، بشمول پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)، از خود نوٹس کے بے جا استعمال سے متاثر ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں ٹماٹر اور آلو کی قیمتیں مقرر کر رہی تھیں، ڈیم بنا رہی تھیں اور وزرائے اعظم، وزیروں اور منتخب نمائندوں کی توہین کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق اس ترمیم کے بعد از خود نوٹس کا اختیار ختم ہو جائے گا اور وہ تلوار ہمیشہ کے لیے ہٹ جائے گی جو عدالتوں نے وزرائے اعظم اور حکومتوں کے سروں پر لٹکا رکھی تھی۔
انہوں نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کے کئی نکات پر ابھی عمل درآمد باقی ہے تاکہ ملک کو درپیش بحرانوں پر قابو پایا جا سکے۔ ان کے مطابق ہمیں سچائی اور مفاہمت کی طرف بڑھنا ہوگا اور یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ ملک شہباز شریف، اچکزئی اور عمران خان کا بھی اتنا ہی ہے جتنا کسی اور شہری کا۔
انہوں نے زور دیا کہ اب سیاسی تقسیم ختم ہونی چاہیے اور باہمی برداشت کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ جب تک سیاست دان ایک دوسرے اور اس ایوان کا احترام نہیں کریں گے، ملک کو وہ طرزِ حکمرانی نہیں مل سکے گی جس کا وہ مستحق ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کو دعوت دی کہ وہ پارلیمنٹ سے منہ نہ موڑے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مکالمہ جاری رکھے تاکہ موجودہ جمود کو جمہوری طریقے سے ختم کیا جا سکے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ حکومت نے اپنے ابتدائی مسودے میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبائی حکومتوں کو دی گئی آئینی ضمانت ختم کرنے کی تجویز دی تھی، جسے پیپلز پارٹی نے سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک وہ اس پارٹی کے سربراہ ہیں، کبھی بھی صوبوں کو دی گئی آئینی ضمانتیں واپس لینے کی حمایت نہیں کریں گے۔
ان کے مطابق اگرچہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ ملک مالی بحران پر قابو پا لے، لیکن ایسی تجاویز دراصل اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ہم ایف بی آر کی اپنے اہداف پر ناکامی کی وجہ سے صوبائی حقوق پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بلاول نے کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں اور یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ جن ٹیکسوں کو صوبوں کے حوالے کیا گیا، ان کی وصولی ہمیشہ وفاق کی نسبت بہتر رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیپلز پارٹی کبھی بھی صوبوں سے کوئی حق واپس لینے کی حمایت نہیں کرے گی، بلکہ اس بات کے لیے آواز اٹھائے گی کہ وفاق ان صوبوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو ایف بی آر یا دیگر وفاقی مالیاتی اداروں کی ناکامیوں کی سزا نہیں ملنی چاہیے، بلکہ تمام صوبوں کو بااختیار بنایا جائے اور ان پر بہتر کارکردگی دکھانے کی ذمہ داری عائد کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے تعلیم اور آبادی کے محکمے دوبارہ وفاق کو منتقل کرنے کی تجویز دی ہے، یعنی وہ اختیارات جو 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے اور جنہوں نے علیحدگی پسندی کی سیاست کو دفن کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف سرحد پار سے سازشیں ہو رہی ہیں، اس لیے حکومت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو علیحدگی پسند عناصر کو دوبارہ ابھارنے یا دشمنوں کی مدد کا باعث بنیں۔
بلاول نے کہا کہ اسی لیے پیپلز پارٹی اختیارات کی واپسی یا این ایف سی ایوارڈ کے تحت دی گئی آئینی ضمانتوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے ججز کی تقرریوں اور تبادلوں کے لیے ایک متوازن طریقہ کار تجویز کیا ہے، جس کے تحت جوڈیشل کمیشن متعلقہ جج کی رائے بھی لے سکے گا، اور حکومت نے اس سفارش سے اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے زبردستی ججز کو ریٹائر کرنے کا خیال واپس لے لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کے بنیادی فلسفے کا حصہ رہا ہے، اور پارٹی اس حوالے سے مزید بات چیت کی متمنی ہے۔ ان کے مطابق ماہرین کا کوئی بھی پینل اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سندھ میں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے اقدامات دیگر تمام صوبوں سے بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے حوالے سے موجودہ اتفاقِ رائے کو مزید آگے بڑھانے پر خوش ہوگی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے وزیرِ اعظم کو یقین دلایا کہ الیکشن کمیشن میں تعیناتیوں پر تعطل ختم کرنے کے لیے پارٹی ایک جمہوری حل تلاش کرے گی۔
آخر میں بلاول نے زور دیا کہ سیاسی جماعتیں ہی حکومت اور پارلیمنٹ کی اصل قوت ہیں، اس لیے کوئی بھی قانون سازی اچانک نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ہر مجوزہ قانون پر بات چیت اور اتفاقِ رائے کے ذریعے تفصیلی غور ہونا چاہیے۔











