جناح میڈیکل کمپلیکس: تعمیر پر پیش رفت تسلی بخش، اہداف معینہ مدت میں حاصل کرنے کی ہدایت

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ جناح میڈیکل کمپلیکس اسلام آباد سمیت پورے پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے مریضوں کو علاج کے لیے جدید ترین سہولیات فراہم کرے گا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اسلام آباد میں زیر تعمیر بین الاقوامی معیار کے اس اسپتال پر جائزہ اجلاس پیر کو منعقد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کمپلیکس کی تعمیر پر پیش رفت تسلی بخش ہے، تاہم معینہ مدت میں اہداف کا حصول یقینی بنایا جائے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ جناح میڈیکل کمپلیکس میں تمام تقرریاں میرٹ پر شفاف طریقے سے کی جائیں۔ اسے چلانے کے لیے نجی ادارے کی خدمات لی جائیں جو عالمی سطح پر بہترین معیار کی علاج معالجے کی سہولیات یقینی بنائے۔ کم آمدن اور متوسط طبقے کو تشخیص کی جدید سہولیات فراہم کی جائیں، اور پی ای ٹی اسکین و دیگر جدید تشخیصی سہولیات کو منصوبے کا کلیدی حصہ بنایا جائے۔
منصوبے کی پیش رفت
اجلاس کو بتایا گیا کہ جناح میڈیکل اینڈ ریسرچ سینٹر (JMCRCI) پر مجموعی طور پر 59 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ مرکزی ہسپتال اور پارکنگ پلازہ کا بنیادی ڈھانچہ مکمل ہے۔ 403 بستروں پر مشتمل اس منصوبے کو 23 مارچ 2027 تک فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
طبی آلات کی تنصیب و دیکھ بھال، ہسپتال کے ڈیجیٹل مینجمنٹ سسٹم اور دیگر انتظامی امور پر بھی کام جاری ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایچ 11 میں جناح میڈیکل اینڈ ریسرچ سینٹر کے فیز ٹو منصوبے کے نظرثانی شدہ ڈیزائن کے تحت قومی سطح پر مسابقتی بڈنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ تعمیراتی کام جلد شروع ہو جائے گا۔ جدید تشخیصی مشینری اور اسکینرز کی خریداری پر بھی کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، سید مصطفیٰ کمال، طارق فضل چوہدری اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔











