دو سال میں سندھ کا بیرونی قرضہ سب سے زیادہ بڑھا، پنجاب کا حجم سب سے بلند

اسلام آباد: وفاقی وزارتِ خزانہ کی دستاویز کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں صوبوں میں سب سے زیادہ اضافہ سندھ کے بیرونی قرضے میں ہوا، جبکہ واجب الادا بیرونی قرضوں کا سب سے بڑا حجم پنجاب کا ہے۔
دستاویز کے مطابق سندھ کا بیرونی قرضہ جون 2024 میں 3.777 ارب ڈالر تھا جو جون 2026 تک بڑھ کر 5.616 ارب ڈالر ہو گیا، یعنی 1.839 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔
خیبرپختونخوا کا بیرونی قرضہ 2.378 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.973 ارب ڈالر ہو گیا، جو 595 ملین ڈالر کا اضافہ ہے۔
پنجاب کا قرضہ 6.026 ارب ڈالر سے بڑھ کر 6.402 ارب ڈالر ہو گیا۔ اس میں 376 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا، تاہم حجم کے لحاظ سے یہ تمام صوبوں میں سب سے زیادہ ہے۔
بلوچستان کا بیرونی قرضہ 357 ملین ڈالر سے بڑھ کر 390 ملین ڈالر ہو گیا، یعنی 33 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔
گلگت بلتستان کا قرضہ 62 ملین ڈالر سے بڑھ کر 69 ملین ڈالر ہوا۔ اس کے برعکس آزاد جموں و کشمیر کے قرضے میں 29 ملین ڈالر کمی ہوئی اور یہ 209 ملین ڈالر سے گھٹ کر 180 ملین ڈالر رہ گیا۔
وزارتِ خزانہ کی دستاویز کے مطابق دو سال کے دوران صوبائی حکومتوں کا مجموعی بیرونی قرضہ 2.821 ارب ڈالر بڑھ کر جون 2026 تک 15.63 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔











