مغربی صحارا میں اقوام متحدہ کا 35 سالہ امن مشن ختم، سیکرٹری جنرل کا بیان

اقوام متحدہ: سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ مغربی صحارا کے عوام کے حقِ خودارادیت کو یقینی بنانے والے منصفانہ، پائیدار اور فریقین کے لیے قابلِ قبول سیاسی حل کی حمایت جاری رکھے گا۔
دوسری جانب خطے میں اقوام متحدہ کے امن مشن نے اپنے آپریشنز ختم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان کی جانب سے جاری سیکرٹری جنرل کے بیان میں کہا گیا کہ مشن برائے ریفرنڈم ان ویسٹرن صحارا کی روانگی سے مغربی صحارا کے عوام کا حقِ خودارادیت ختم یا متاثر نہیں ہوتا، کیونکہ یہ ان کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔
بیان میں تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ مغربی صحارا کے عوام کے حقوق کا احترام کریں اور ان کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں۔
سلامتی کونسل جمعہ کو مشن کے مستقبل سے متعلق کسی اتفاقِ رائے پر نہ پہنچ سکی، جس کے باعث اس کا مینڈیٹ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ختم ہو گیا۔
امریکا کی پیش کردہ قرارداد کے مسودے کو روس نے ویٹو کر دیا، جبکہ روس کی جانب سے پیش کردہ متبادل مسودہ مشن کی مزید توسیع کے لیے درکار کم از کم نو ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ پاکستان نے دونوں قراردادوں پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
پاکستان نے زور دیا کہ تمام فریقین کے درمیان مذاکرات اور اتفاقِ رائے کے ذریعے باہمی طور پر قابلِ قبول سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
ترجمان کے مطابق مشن کے آپریشنز ختم ہونے کے باوجود اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی برائے مغربی صحارا سٹافن ڈی مستورا کے ذریعے پرامن حل کی کوششیں جاری رکھے گا۔
سیکرٹری جنرل نے 1991 سے اب تک جنگ بندی کی نگرانی اور سیاسی حل کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے میں MINURSO کے مرکزی کردار کو سراہا۔
انہوں نے مشن کے تمام اہلکاروں، بالخصوص مغربی صحارا کے خصوصی نمائندہ الیگزینڈر ایوانکو کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے 2020 میں دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد ایک انتہائی مشکل دور میں مشن کی قیادت کی۔
سیکرٹری جنرل نے مشن کے 35 سالہ دورانیے میں جانیں گنوانے والے 20 اہلکاروں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔











