فاٹا انضمام کے دس سال بعد بھی بندوبستی نظام کے بنیادی مسائل حل نہ ہو سکے: فضل الرحمٰن

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں کو طویل عرصے سے تجربہ گاہ بنایا جا رہا ہے۔ فاٹا کے انضمام کو تقریباً دس سال گزرنے کے باوجود وہاں بندوبستی نظام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکے۔
پٹواری نظام، جائیدادوں کے تنازعات، پولیس کے نظام اور انتظامی ڈھانچے سے متعلق مشکلات آج بھی موجود ہیں۔
فاٹا ڈیجیٹل میڈیا ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کنونشن کے انعقاد اور دعوت پر جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اس کی سرزمین اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہیں، اور اس امانت کا تقاضا ہے کہ دیانت داری کے ساتھ ملک کی حفاظت، خوشحالی اور ترقی کے لیے کام کیا جائے۔
انضمام کا فیصلہ اور جمعیت کا موقف
انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کا فاٹا کے حوالے سے ایک واضح سیاسی موقف تھا اور آج بھی ہے۔ جماعت قبائلی علاقوں کے مسئلے کو محض انتظامی فیصلوں کے تناظر میں نہیں بلکہ سیاسی موقف، آئینی حقوق اور زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھتی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جب جمعیت علمائے اسلام نے فاٹا انضمام کے خلاف موقف اختیار کیا تو دلائل سے جواب دینے کے بجائے جماعت کو تنقید اور الزامات کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فاٹا کے انضمام کا فیصلہ کس بڑی قوت کے کہنے پر کیا گیا تھا، اور اب قبائلی علاقوں کو دوبارہ وفاق کے زیر انتظام لانے کی باتیں کس کے مفادات کے تحت کی جا رہی ہیں۔ ان کے بقول قوم کے مستقبل کے فیصلے دوسروں کے مفادات کے تابع کرنا غلامانہ ذہنیت ہے۔
قائد جمعیت نے کہا کہ حکومتی شخصیات کی جانب سے انضمام کے فیصلے کو غلط قرار دینے کے بیانات کے بعد اس معاملے پر مزید سنجیدہ بحث کی ضرورت پیدا ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کا موقف تھا کہ اس وقت قبائلی علاقوں کے حالات انضمام کے لیے موزوں نہیں تھے۔
انتظامی مسائل اور مطالبات
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انضمام کے تقریباً دس سال بعد بھی بندوبستی نظام کے قیام میں مشکلات برقرار ہیں۔ پٹواری نظام مکمل طور پر قائم نہیں ہو سکا، پرانی جائیدادوں کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق تنازعات حل طلب ہیں، جبکہ پولیس کے نظام کو مؤثر بنانے کے حوالے سے بھی مسائل موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فاٹا کا مسئلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ آئینی، انتظامی اور معاشی حقوق سے بھی جڑا ہوا ہے۔ قبائلی علاقوں کے وسائل، معیشت اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے واضح اور جامع پالیسی ناگزیر ہے۔ گورنر راج اور ایمرجنسی سے قبل بھی وہ قبائلی علاقوں کے حالات اور عوام کے مستقبل کے بارے میں خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ کردار کشی اور الزام تراشی سے۔ قبائلی علاقوں کے مستقبل کا کوئی بھی فیصلہ بیرونی دباؤ یا طاقتور حلقوں کے مفادات کے تحت نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کی بنیاد عوامی مشاورت، دلیل اور حقوق کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔ جمعیت علمائے اسلام قبائلی عوام کے سیاسی، آئینی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔











