رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 21° / 11°فجر 05:26ظہر 12:16عصر 16:07مغرب 17:43عشا 19:05
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
دلجیت دوسانجھ کا انکشاف: ہجوم سنبھالنے کی ذمہ داری پر بہار میں کنسرٹ نہ ہو سکاخیبرپختونخوا: پبلک ورکس مد میں 16.54 ارب روپے کی اضافی ادائیگیاں، آڈٹ رپورٹ میں نشاندہیہنگو کے علاقے سروخیل میں گھر کے اندر فائرنگ، دو خواتین اور تین بچوں سمیت چھ افراد جاں بحقایرانی مذاکرات کار دوحہ سے روانہ، جنگ ختم کرنے کا مسودہ زیرِ گردشاسحاق ڈار کا پاک چین تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہدھابیجی گھارو پمپنگ اسٹیشن کی بجلی بند، کراچی میں پانی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہدو سال میں سندھ کا بیرونی قرضہ سب سے زیادہ بڑھا، پنجاب کا حجم سب سے بلندمحمد عامر برطانوی شہری کے طور پر افغانستان پریمیئر لیگ ڈرافٹ میں شاملکرینہ کپور کی شاہ رخ خان کی فلم ‘کنگ’ میں شمولیت کا اشارہ، سالگرہ پر پیغامآسٹریلوی آل راؤنڈر گلین میکسویل کا بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلانامریکا میں وسط مدتی انتخابات: کانگریس کا کنٹرول داؤ پر، پہلے نتائج بدھ کی صبح متوقعامریکا نے ٹرمپ دور میں 3 لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کر دیے، محکمہ خارجہ کا ریکارڈ دعویٰ

برطانیہ میں مستقل رہائش کے نئے قواعد، عام تارکینِ وطن کے لیے مدت پانچ سے بڑھا کر دس سال

برطانیہ میں مستقل رہائش کے نئے قواعد، عام تارکینِ وطن کے لیے مدت پانچ سے بڑھا کر دس سال
فائل فوٹو: برطانوی ہوم آفس کی عمارت — تصویر: بشکریہ ویکی پیڈیا

لندن: برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے دارالعوام میں اپنے بیان میں 'ارنڈ سیٹلمنٹ' پالیسی کی حتمی تفصیلات پیش کر دی ہیں۔ نئے نظام کے تحت مستقل رہائش (انڈیفینٹ لیو ٹو ریمین) کے لیے انتظار کی مدت تارکینِ وطن کی آمدنی، کردار اور ملک کے لیے خدمات سے طے ہوگی۔

نئے قواعد کے مطابق عام تارکینِ وطن کے لیے مدت پانچ سال سے بڑھا کر دس سال کر دی گئی ہے۔ سب سے زیادہ کمانے والے تین سال میں درخواست دے سکیں گے۔ پانچ سال کا راستہ ان لوگوں کے لیے برقرار رہے گا جن کی آمدنی £50,271 سے زائد ہو، جبکہ ڈاکٹر، نرسیں اور اساتذہ جیسے بعض سرکاری خدمات کے شعبوں کے کارکن بھی پانچ سال میں اہل ہوں گے۔ جنہوں نے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کی، وہ کم از کم 20 سال بعد درخواست دے سکیں گے۔

درخواست دہندگان کو انگریزی اعلیٰ معیار پر بولنی ہوگی اور ان کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہونا لازمی ہے۔ حکومت کے مطابق اندازاً پانچ لاکھ سے زائد افراد کو پانچ سال سے زیادہ انتظار کرنا پڑے گا۔

کیئر ورکرز کے لیے الگ رعایت رکھی گئی ہے۔ جنہوں نے ویزا شرائط پوری کیں اور سالانہ کم از کم £25,000 کمائے، وہ پانچ سال میں مستقل رہائش کی درخواست دے سکیں گے۔ جو اس معیار پر پورا نہیں اترتے، ان کی تعداد تقریباً چوتھائی ہے، انہیں نیا پانچ سالہ ویزا ملے گا اور اس کی تکمیل کے بعد وہ درخواست دے سکیں گے۔ صحت اور تعلیم کے بعض سرکاری کارکنوں پر بھی ایسا ہی طریقہ لاگو ہوگا۔ حکومت کے مطابق ایسے آجروں کی تعداد 1,800 ہے جن سے غیر ملکی کارکنوں کی سپانسرشپ کا حق واپس لیا گیا۔

وزیر داخلہ کے مطابق تبدیلیاں دسمبر کے امیگریشن رولز سے پیش ہونا شروع ہوں گی اور 2027 کے دوران نافذ کی جائیں گی۔ حکومت نے مشاورت کا جواب بھی شائع کیا، جس پر 204,667 آراء موصول ہوئی تھیں۔

موضوعات:
اشتہار