برطانیہ میں مستقل رہائش کے نئے قواعد، عام تارکینِ وطن کے لیے مدت پانچ سے بڑھا کر دس سال

لندن: برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے دارالعوام میں اپنے بیان میں 'ارنڈ سیٹلمنٹ' پالیسی کی حتمی تفصیلات پیش کر دی ہیں۔ نئے نظام کے تحت مستقل رہائش (انڈیفینٹ لیو ٹو ریمین) کے لیے انتظار کی مدت تارکینِ وطن کی آمدنی، کردار اور ملک کے لیے خدمات سے طے ہوگی۔
نئے قواعد کے مطابق عام تارکینِ وطن کے لیے مدت پانچ سال سے بڑھا کر دس سال کر دی گئی ہے۔ سب سے زیادہ کمانے والے تین سال میں درخواست دے سکیں گے۔ پانچ سال کا راستہ ان لوگوں کے لیے برقرار رہے گا جن کی آمدنی £50,271 سے زائد ہو، جبکہ ڈاکٹر، نرسیں اور اساتذہ جیسے بعض سرکاری خدمات کے شعبوں کے کارکن بھی پانچ سال میں اہل ہوں گے۔ جنہوں نے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کی، وہ کم از کم 20 سال بعد درخواست دے سکیں گے۔
درخواست دہندگان کو انگریزی اعلیٰ معیار پر بولنی ہوگی اور ان کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہونا لازمی ہے۔ حکومت کے مطابق اندازاً پانچ لاکھ سے زائد افراد کو پانچ سال سے زیادہ انتظار کرنا پڑے گا۔
کیئر ورکرز کے لیے الگ رعایت رکھی گئی ہے۔ جنہوں نے ویزا شرائط پوری کیں اور سالانہ کم از کم £25,000 کمائے، وہ پانچ سال میں مستقل رہائش کی درخواست دے سکیں گے۔ جو اس معیار پر پورا نہیں اترتے، ان کی تعداد تقریباً چوتھائی ہے، انہیں نیا پانچ سالہ ویزا ملے گا اور اس کی تکمیل کے بعد وہ درخواست دے سکیں گے۔ صحت اور تعلیم کے بعض سرکاری کارکنوں پر بھی ایسا ہی طریقہ لاگو ہوگا۔ حکومت کے مطابق ایسے آجروں کی تعداد 1,800 ہے جن سے غیر ملکی کارکنوں کی سپانسرشپ کا حق واپس لیا گیا۔
وزیر داخلہ کے مطابق تبدیلیاں دسمبر کے امیگریشن رولز سے پیش ہونا شروع ہوں گی اور 2027 کے دوران نافذ کی جائیں گی۔ حکومت نے مشاورت کا جواب بھی شائع کیا، جس پر 204,667 آراء موصول ہوئی تھیں۔











