امریکا نے ٹرمپ دور میں 3 لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کر دیے، محکمہ خارجہ کا ریکارڈ دعویٰ

واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کے آغاز، یعنی جنوری 2025 سے اب تک 3 لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ محکمے نے اسے امریکی تاریخ کی سب سے بڑی تعداد قرار دیا۔
یہ اعداد و شمار محکمہ خارجہ نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری کیے۔ محکمے کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو کی قیادت میں ویزا رکھنے والوں کا غیر معمولی جائزہ لیا گیا۔ اگست میں جاری کی گئی اپ ڈیٹ میں یہ تعداد 1 لاکھ 75 ہزار سے زیادہ بتائی گئی تھی۔
محکمے کا کہنا ہے کہ زیادہ تر منسوخیاں عوامی تحفظ کے خدشات، امیگریشن خلاف ورزیوں، مجرمانہ سرگرمی، فراڈ یا غلط بیانی، یا ایسی معلومات کی بنیاد پر ہوئیں جن سے ظاہر ہوا کہ متعلقہ شخص ویزے کا اہل نہیں رہا۔
محکمہ خارجہ کے مطابق 4 ہزار سے زائد ویزے “برتھ ٹورازم” کی بنیاد پر منسوخ کیے گئے، یعنی بچے کو امریکی شہریت دلانے کے لیے امریکا جا کر بچے کو جنم دینا۔ ان میں 700 سے زیادہ ویزے چینی شہریوں کے تھے۔
امریکی بیورو آف کونسلر افیئرز نے 2025 میں واشنگٹن میں کنٹینیوئس ویٹنگ سینٹر قائم کیا، جس کے بارے میں محکمے کا کہنا ہے کہ اس نے 23 ہزار سے زیادہ ویزے منسوخ کیے۔ ان میں بیشتر مجرمانہ یا عوامی تحفظ سے متعلق معاملات تھے: 25 فیصد حملے اور متعلقہ جرائم، 22 فیصد نشے میں گاڑی چلانے، 7 فیصد چوری اور 7 فیصد منشیات کے استعمال یا تقسیم کی بنا پر۔
محکمے نے ایکس پر لکھا کہ ویزا ایک استحقاق ہے، حق نہیں، اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو امریکا میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
جاری کردہ اعداد و شمار میں برتھ ٹورازم کے سلسلے میں چینی شہریوں کے سوا ملک وار تفصیل شامل نہیں۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ منسوخ ہونے والے ویزوں میں کتنے بھارتی شہریوں کے تھے۔











