رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 21° / 11°فجر 05:26ظہر 12:16عصر 16:07مغرب 17:43عشا 19:05
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
دلجیت دوسانجھ کا انکشاف: ہجوم سنبھالنے کی ذمہ داری پر بہار میں کنسرٹ نہ ہو سکاخیبرپختونخوا: پبلک ورکس مد میں 16.54 ارب روپے کی اضافی ادائیگیاں، آڈٹ رپورٹ میں نشاندہیہنگو کے علاقے سروخیل میں گھر کے اندر فائرنگ، دو خواتین اور تین بچوں سمیت چھ افراد جاں بحقایرانی مذاکرات کار دوحہ سے روانہ، جنگ ختم کرنے کا مسودہ زیرِ گردشاسحاق ڈار کا پاک چین تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہدھابیجی گھارو پمپنگ اسٹیشن کی بجلی بند، کراچی میں پانی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہدو سال میں سندھ کا بیرونی قرضہ سب سے زیادہ بڑھا، پنجاب کا حجم سب سے بلندمحمد عامر برطانوی شہری کے طور پر افغانستان پریمیئر لیگ ڈرافٹ میں شاملکرینہ کپور کی شاہ رخ خان کی فلم ‘کنگ’ میں شمولیت کا اشارہ، سالگرہ پر پیغامآسٹریلوی آل راؤنڈر گلین میکسویل کا بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلانامریکا میں وسط مدتی انتخابات: کانگریس کا کنٹرول داؤ پر، پہلے نتائج بدھ کی صبح متوقعامریکا نے ٹرمپ دور میں 3 لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کر دیے، محکمہ خارجہ کا ریکارڈ دعویٰ

سینیٹ میں انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تحریک منظور

سینیٹ میں انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تحریک منظور
فائل فوٹو: پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد — تصویر: بشکریہ www.radio.gov.pk

اسلام آباد: سینیٹ نے انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کی تحریک کثرتِ رائے سے منظور کر لی۔

تحریک وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے جمعرات کو ایوانِ بالا کے اجلاس میں پیش کی، جس کی منظوری کے بعد چیئرمین سینیٹ کو کمیٹی کے ارکان نامزد کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔

انتخابی اصلاحات پر عملدرآمد پر زور

اجلاس کے دوران مختلف رہنماؤں نے اصلاحات کی تیاری کے ساتھ ساتھ ان پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ وہ ایک گھنٹے میں انتخابی اصلاحات تیار کر سکتے ہیں، تاہم اصل مسئلہ اصلاحات کو کاغذ پر تحریر کرنا نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ انتخابی اصلاحات پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے کوئی مؤثر کمیٹی یا طریقہ کار وضع کیا جائے، تاکہ اصلاحات صرف دستاویزات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر بھی نافذ ہو سکیں۔

اپوزیشن اور پی ٹی آئی سے مذاکرات کی دعوت

بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ وزیراعظم اپوزیشن کو متعدد بار مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، لیکن اپوزیشن نہ تو بات چیت کے لیے آمادہ ہے اور نہ ہی قائمہ کمیٹیوں میں اس کی شرکت نظر آ رہی ہے۔

انہوں نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریق بیٹھ کر بات کریں، کیونکہ اسی طریقے سے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے پاکستان تحریک انصاف پر زور دیا کہ وہ انتخابی اصلاحات کے لیے قائم کی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کا حصہ بنے تاکہ مشاورت کے ذریعے بامعنی اصلاحات کی جا سکیں۔

سینیٹ سے تحریک کی منظوری کے بعد انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا عمل آگے بڑھانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جبکہ بحث کے دوران اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد کو بنیادی اہمیت دینے کی تجویز بھی سامنے آئی۔

موضوعات:
اشتہار