سینیٹ میں انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تحریک منظور

اسلام آباد: سینیٹ نے انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کی تحریک کثرتِ رائے سے منظور کر لی۔
تحریک وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے جمعرات کو ایوانِ بالا کے اجلاس میں پیش کی، جس کی منظوری کے بعد چیئرمین سینیٹ کو کمیٹی کے ارکان نامزد کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
انتخابی اصلاحات پر عملدرآمد پر زور
اجلاس کے دوران مختلف رہنماؤں نے اصلاحات کی تیاری کے ساتھ ساتھ ان پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ وہ ایک گھنٹے میں انتخابی اصلاحات تیار کر سکتے ہیں، تاہم اصل مسئلہ اصلاحات کو کاغذ پر تحریر کرنا نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ انتخابی اصلاحات پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے کوئی مؤثر کمیٹی یا طریقہ کار وضع کیا جائے، تاکہ اصلاحات صرف دستاویزات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر بھی نافذ ہو سکیں۔
اپوزیشن اور پی ٹی آئی سے مذاکرات کی دعوت
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ وزیراعظم اپوزیشن کو متعدد بار مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، لیکن اپوزیشن نہ تو بات چیت کے لیے آمادہ ہے اور نہ ہی قائمہ کمیٹیوں میں اس کی شرکت نظر آ رہی ہے۔
انہوں نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریق بیٹھ کر بات کریں، کیونکہ اسی طریقے سے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
بیرسٹر عقیل ملک نے پاکستان تحریک انصاف پر زور دیا کہ وہ انتخابی اصلاحات کے لیے قائم کی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کا حصہ بنے تاکہ مشاورت کے ذریعے بامعنی اصلاحات کی جا سکیں۔
سینیٹ سے تحریک کی منظوری کے بعد انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا عمل آگے بڑھانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جبکہ بحث کے دوران اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد کو بنیادی اہمیت دینے کی تجویز بھی سامنے آئی۔











