ایرانی 7 نکاتی تجویز پر آئندہ چند روز میں عملدرآمد کا امکان: اسماعیل بقائی

تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ سفارت کاری کی بنیاد ایرانی 7 نکاتی تجویز ہے، اب گیند امریکا کے کورٹ میں ہے۔
تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ آئندہ چند روز میں ایرانی 7 نکاتی تجویز پر عملدرآمد کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے مطالبات بالکل واضح اور منطقی ہیں۔
اسماعیل بقائی کے مطابق کسی بھی معاہدے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایران کے مطالبات کی منظوری ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکا کی جانب سے کسی نئی صورتحال کی توقع نہیں۔
ترجمان کے مطابق امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، جبکہ نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی اس عمل میں سہولت کاری کے لیے دوحہ میں موجود تھے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسرائیلی حکام کے خلاف اپنے قانونی ضابطوں کے مطابق کارروائی کرنے پر عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو امریکا کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
انہوں نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 2 برس کے دوران امریکا نے نہ صرف کوئی سفارتی اقدام پیش کرنے میں ناکامی دکھائی بلکہ سفارتی عمل کو فعال طور پر نقصان بھی پہنچایا ہے۔
ترجمان نے اسرائیل کو مغربی ایشیا میں عدم تحفظ کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے غزہ اور لبنان میں اپنے مظالم میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔
سرد موسم کی آمد کے پیشِ نظر بے گھر افراد تک زندگی کی بنیادی ضروریات کی اشیا کی رسائی میں رکاوٹوں نے ان کی صورتِ حال کو تباہ کن حد تک پہنچا دیا ہے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق عالمی برادری اور یورپی ممالک غزہ کی صورتِ حال کے حوالے سے بے حسی کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی زندگیوں کو محض اعداد و شمار تک محدود کر دینا اور مظالم کو معمول کی بات سمجھنا ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے، جو انسانی ضمیر کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔











