رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 11° ابر آلود 21° / 11°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:06مغرب 17:42عشا 19:04
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
حارث رئوف بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی نمائندگی کے لیے پرجوششمالی کوریا کا بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر کی چوری میں ملوث ہونے کے ایف بی آئی الزام کو مستردنیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئےیورپ کے سپر مارکیٹس میں فریزرز ہیک، سویڈن سے بیلجیم تک خوراک ضائع کرنا پڑیہاکی کا مستقبل روشن، سہولتوں کی کمی نہیں؛ جیت کے لیے ٹارگٹ سیٹ کرنا ہوگا: محی الدین وانیبیرسٹر گوہر: سیاسی تنائو مزید نہ بڑھایا جائے، مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جائےکوئٹہ کی عابدہ بتول عالمی ایٹم ویٹ ٹائٹل جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون باکسر بن گئیںایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات جاری، نئے علاقائی سکیورٹی انتظامات پر کوششبلاول بھٹو کی زیرِ صدارت پیپلز پارٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس، وزیراعظم سے ملاقات پر غورسر تال میوزک اکیڈمی کے باصلاحیت بچوں کا چرچا، علی ڈار کا اکیڈمی کا دورہگوہر: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے باخبر تھےٹرمپ کا انتباہ: ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت لیں تو ’مسٹر ویٹو‘ بن جاؤں گا

ایران کی امریکا کے ساتھ جنگ بندی منصوبے پر عمل درآمد تیز کرنے کی پیشکش، دو دن میں نفاذ ممکن

ایران کی امریکا کے ساتھ جنگ بندی منصوبے پر عمل درآمد تیز کرنے کی پیشکش، دو دن میں نفاذ ممکن
فائل فوٹو: تہران میں ایرانی وزارت خارجہ کی عمارت — تصویر: بشکریہ en.mfa.ir

تہران: ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکا کو پیش کیے گئے جنگ بندی منصوبے پر عمل درآمد کو تیز کرنا چاہتا ہے۔ پیر کو ایرانی حکام کے مطابق گزشتہ ماہ پیش کیا گیا سات نکاتی منصوبہ وہی ہے، تاہم اب اسے جلد نافذ کیا جا سکتا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ منصوبے کو مختصر کر دیا گیا ہے اور اب یہ سات دن کے بجائے دو دن میں نافذ ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول اگر ایران کے مطالبات مان لیے گئے تو آبنائے ہرمز میں سلامتی بحال ہو سکتی ہے اور مذاکراتی عمل مختصر وقت میں شروع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب اس پر منحصر ہے کہ امریکا آگے کیسے بڑھنا چاہتا ہے۔

منصوبے میں آبنائے ہرمز کو جلد کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی شامل ہے۔ ایران اس سے پہلے کہہ چکا ہے کہ اس کی شرائط میں بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا، پابندیاں اٹھانا، حملے بند کرنے کی ضمانت اور خاص طور پر لبنان سمیت پورے خطے میں مکمل جنگ بندی شامل ہیں۔ بقائی کے بیان سے یہ اشارہ نہیں ملا کہ ایران نے مطالبات بدلے ہیں یا واشنگٹن نے تجویز قبول کی ہے۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترکمانستان کے شہر اشک آباد میں سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا سے گفتگو میں کہا کہ شرائط مان لی گئیں تو آبنائے ہرمز کھل جائے گی اور مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے، بصورت دیگر موجودہ صورتحال برقرار رہے گی اور ایران جھکے گا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران سفارت کاری اور فوجی مقابلے، دونوں کے لیے تیار ہے۔ قطر اور پاکستان بالواسطہ مذاکرات میں سہولت کاری کر رہے ہیں۔

ایرنا کے مطابق رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے مذاکرات تیز کرنے کے لیے حکومت کو اختیارات دیے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کو ’ٹھیک چلتا ہوا‘ قرار دیا ہے، تاہم وہ کئی بار عندیہ دے چکے ہیں کہ 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملہ ہو سکتا ہے۔ اتوار کو آر ایس بی این سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جنگ ’بہت جلد‘ ختم ہو جائے گی، یا تو ایران معاہدہ کرے گا یا امریکا اسے ختم کر دے گا۔ یہ تنازع آٹھ ماہ سے جاری ہے۔

اشتہار