ایران کی امریکا کے ساتھ جنگ بندی منصوبے پر عمل درآمد تیز کرنے کی پیشکش، دو دن میں نفاذ ممکن

تہران: ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکا کو پیش کیے گئے جنگ بندی منصوبے پر عمل درآمد کو تیز کرنا چاہتا ہے۔ پیر کو ایرانی حکام کے مطابق گزشتہ ماہ پیش کیا گیا سات نکاتی منصوبہ وہی ہے، تاہم اب اسے جلد نافذ کیا جا سکتا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ منصوبے کو مختصر کر دیا گیا ہے اور اب یہ سات دن کے بجائے دو دن میں نافذ ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول اگر ایران کے مطالبات مان لیے گئے تو آبنائے ہرمز میں سلامتی بحال ہو سکتی ہے اور مذاکراتی عمل مختصر وقت میں شروع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب اس پر منحصر ہے کہ امریکا آگے کیسے بڑھنا چاہتا ہے۔
منصوبے میں آبنائے ہرمز کو جلد کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی شامل ہے۔ ایران اس سے پہلے کہہ چکا ہے کہ اس کی شرائط میں بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا، پابندیاں اٹھانا، حملے بند کرنے کی ضمانت اور خاص طور پر لبنان سمیت پورے خطے میں مکمل جنگ بندی شامل ہیں۔ بقائی کے بیان سے یہ اشارہ نہیں ملا کہ ایران نے مطالبات بدلے ہیں یا واشنگٹن نے تجویز قبول کی ہے۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترکمانستان کے شہر اشک آباد میں سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا سے گفتگو میں کہا کہ شرائط مان لی گئیں تو آبنائے ہرمز کھل جائے گی اور مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے، بصورت دیگر موجودہ صورتحال برقرار رہے گی اور ایران جھکے گا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران سفارت کاری اور فوجی مقابلے، دونوں کے لیے تیار ہے۔ قطر اور پاکستان بالواسطہ مذاکرات میں سہولت کاری کر رہے ہیں۔
ایرنا کے مطابق رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے مذاکرات تیز کرنے کے لیے حکومت کو اختیارات دیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کو ’ٹھیک چلتا ہوا‘ قرار دیا ہے، تاہم وہ کئی بار عندیہ دے چکے ہیں کہ 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملہ ہو سکتا ہے۔ اتوار کو آر ایس بی این سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جنگ ’بہت جلد‘ ختم ہو جائے گی، یا تو ایران معاہدہ کرے گا یا امریکا اسے ختم کر دے گا۔ یہ تنازع آٹھ ماہ سے جاری ہے۔











