ایرانی مذاکرات کار دوحہ سے روانہ، جنگ ختم کرنے کا مسودہ زیرِ گردش

دوحہ/واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ ختم کرانے کی سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ مذاکرات سے واقف ایک عہدیدار کے مطابق 2 نومبر کو ایرانی نمائندے قطری ثالثوں سے بات چیت کے بعد قطر سے روانہ ہو گئے۔ ایک مسودۂ معاہدہ زیرِ گردش ہے اور مزید ملاقات کا امکان بھی موجود ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران دفاع اور سفارت کاری دونوں کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق وفد کا دورہ نائب وزیر خارجہ کی سطح پر ہوا اور اس کا مقصد قطری ثالثوں سے مشاورت جاری رکھنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دو روزہ تجویز پر بات چیت جاری ہے، تاہم کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکلا۔
الجزیرہ کے مطابق عراقچی نے ہفتے کو کہا تھا کہ ایرانی اور قطری مذاکرات کاروں نے ایسی تجویز تیار کی ہے جس کے تحت واشنگٹن کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے دو دن کے اندر آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔
ایران کے وزیر دفاع مہرداد اخلاقی کتابچی نے کہا کہ مسلح افواج کی جنگی صلاحیت تیزی سے بڑھائی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی حملے کا جواب جغرافیائی حد کے بغیر دیا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے ایک روز قبل واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جنگ جیت رہا ہے اور ایران معاہدہ چاہتا ہے، جو ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا انتخابات کے بعد ایران پر حملے دوبارہ شروع ہوں گے تو ان کا جواب تھا: نہیں۔ ایک روز قبل انہوں نے کہا تھا کہ کسی مرحلے پر ایران کو دوبارہ سخت ضرب لگانا پڑے گی۔
نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق وہ اور ٹرمپ مذاکراتی تصفیے کے امکانات کے بارے میں مثبت ہیں اور کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق ماسکو میں روسی اور ایرانی سفارت کاروں کی مشاورت ہوئی، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کی بحالی روکنے پر زور دیا گیا۔ ایرانی میڈیا نے ولادیمیر پوتن اور ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کے درمیان ٹیلی فونک رابطے کی اطلاع دی، جس کی کریملن نے فوری تصدیق نہیں کی۔











