رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 21° / 11°فجر 05:26ظہر 12:16عصر 16:07مغرب 17:43عشا 19:05
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
دلجیت دوسانجھ کا انکشاف: ہجوم سنبھالنے کی ذمہ داری پر بہار میں کنسرٹ نہ ہو سکاخیبرپختونخوا: پبلک ورکس مد میں 16.54 ارب روپے کی اضافی ادائیگیاں، آڈٹ رپورٹ میں نشاندہیہنگو کے علاقے سروخیل میں گھر کے اندر فائرنگ، دو خواتین اور تین بچوں سمیت چھ افراد جاں بحقایرانی مذاکرات کار دوحہ سے روانہ، جنگ ختم کرنے کا مسودہ زیرِ گردشاسحاق ڈار کا پاک چین تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہدھابیجی گھارو پمپنگ اسٹیشن کی بجلی بند، کراچی میں پانی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہدو سال میں سندھ کا بیرونی قرضہ سب سے زیادہ بڑھا، پنجاب کا حجم سب سے بلندمحمد عامر برطانوی شہری کے طور پر افغانستان پریمیئر لیگ ڈرافٹ میں شاملکرینہ کپور کی شاہ رخ خان کی فلم ‘کنگ’ میں شمولیت کا اشارہ، سالگرہ پر پیغامآسٹریلوی آل راؤنڈر گلین میکسویل کا بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلانامریکا میں وسط مدتی انتخابات: کانگریس کا کنٹرول داؤ پر، پہلے نتائج بدھ کی صبح متوقعامریکا نے ٹرمپ دور میں 3 لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کر دیے، محکمہ خارجہ کا ریکارڈ دعویٰ

ٹرمپ کی ایران جنگ سے امریکا پہلے سے زیادہ غیر محفوظ ہو گیا: اوباما

ٹرمپ کی ایران جنگ سے امریکا پہلے سے زیادہ غیر محفوظ ہو گیا: اوباما
فائل فوٹو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ — تصویر: بشکریہ cfr.org

واشنگٹن: سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے اور سفارت کاری کے ذریعے اس کے جوہری پروگرام کو محدود کیا جا سکتا تھا۔

انہوں نے اپنے دورِ صدارت میں ایران کے ساتھ 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے نے تہران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔

اوباما نے کہا کہ انہوں نے میزائل داغنے کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا تھا۔

انہوں نے ایران کے خلاف جنگ کے اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے نتیجے میں امریکا کے اتحادیوں اور فوجی اڈوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ متعدد امریکی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

اوباما کے مطابق جنگ کے دوران امریکا کے میزائلوں کے ذخائر میں بھی کمی آئی ہے، جس سے ملک پہلے کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ ہو گیا ہے۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا اثرورسوخ بڑھ گیا ہے اور اسے اس اہم بحری گزرگاہ کے معاملات میں ویٹو جیسی طاقت حاصل ہو گئی ہے۔

باراک اوباما نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ قرار دیا۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے اہم گزرگاہ ہے، اس لیے وہاں کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

موضوعات:
اشتہار